مدینہ بلڈنگ تا پیٹلہ برج غیر مجاز قبضہ جات کی برخواستگی

   

جی ایچ ایم سی اور حیڈرا کی کارروائی ، قبل از وقت نوٹس نہ دینے پر تاجرین کو شدید نقصان
حیدرآباد۔2۔جولائی(سیاست نیوز) فٹ پاتھ پر قبضوں کی برخواستگی کے سلسلہ میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے کی جانے والی کاروائیوں کے دوران آج مدینہ بلڈنگ چوراہے تا پیٹلہ برج سڑک پر بڑے پیمانے پر کاروائی کرتے ہوئے سڑک کے دونوں جانب موجود قبضہ جات کو برخواست کردیا گیا۔بتایاجاتاہے کہ فٹ پاتھ پر قبضہ کرتے ہوئے کئے جانے والے کاروباروں کے خلاف جاری اس مہم کے دوران مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد‘ حیڈرا‘ کے علاوہ محکمہ پولیس کے عہدیداروں کی نگرانی میں انجام دی گئی اس کاروائی میں سینکڑوں کی تعداد میں کاروباری اداروں کو برخواست کردیاگیا ہے ۔ علی الصبح کی گئی اس کاروائی کے دوران تلنگانہ ہائی کورٹ کے روبرو سڑک پر کئے گئے قبضہ جات کے علاوہ فٹ پاتھ پر موجود تمام کاروباری مقامات پان شاپس اور دیگر ٹھیلہ بنڈی جو کہ سڑک اور فٹ پاتھ پر لگائے جا رہے تھے انہیں برخواست کردیاگیا۔مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عہدیداروں کے مطابق عدالت کی ہدایت پر دونوں شہروں حیدرآبادوسکندرآباد میں کی جانے والی ان کاروائیوں کے دوران محض فٹ پاتھ پر موجود قبضہ جات کو برخواست کیا جا رہاہے اور جن مالکین جائیداد نے اپنی جائیداد کے آگے ہٹ کر تعمیرات انجام دی ہیں انہیں برخواست کیا جا رہاہے ۔ ذرائع کے مطابق مدینہ بلڈنگ تا پیٹلہ برج زچگی خانہ کے سڑک پر کی جانے والی اس کاروائی کے سلسلہ میں عہدیداروں نے گذشتہ شب واقف کرواتے ہوئے تاجرین کو نقصانات سے محفوظ رہنے کے لئے فٹ پاتھ پر موجود اپنی تعمیرات کو برخواست کرلینے کی تاکید کی تھی لیکن اس کے باوجود بھی جن مالکین جائیداد کی جانب سے ہدایات کو نظر انداز کیاگیا ان تمام فٹ پاتھ قابضین کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر انہدامی کاروائی انجام دی گئی ۔عہدیداروں نے بتایا کہ فٹ پاتھ پر کئے جانے والے قبضہ جات کی برخواستگی کے لئے کسی بھی طرح کی نوٹس کی اجرائی کی کوئی ضرورت نہیں ہے اسی لئے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد نے کوئی نوٹس جاری نہیں کی ۔ جن لوگوں کا نقصان ہوا ہے وہ انہیں ہونے والے نقصانات کی نشاندہی کرتے ہوئے اس بات کی شکایت کر رہے ہیں کہ انہیں نہ کوئی نوٹس دی گئی اور نہ ہی اس کاروائی کے متعلق واقف کروایا گیا۔ متاثرین کا کہناہے کہ اگر ان کے قبضہ جات ناجائز ہیں تو انہیں نوٹس دیتے ہوئے اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا جانا چاہئے تھا کیونکہ اس سڑک پر موجودبیشتر دکانات 50 سال سے زائد عرصہ سے اپنے کاروبار انجام دے رہے ہیں اور کئی دکانات پر تیسری نسل کاروبار کر رہی تھی جنہیں ان کے کاروبار سے بیدخل کئے جانے کا دعویٰ کیا جار ہاہے اور جی ایچ ایم سی کی کاروائی کو ظالمانہ اور غیر قانونی قراردیا جا رہاہے۔3/m/b