ڈاکٹر محمد سراج الرحمن کا خطاب
حیدرآباد ۔ 14 ۔ مئی : ( راست ) : جامع مسجد پائیگاہ بشیر باغ میں ڈاکٹر محمد سراج الرحمن فاروقی کا خطاب ’ اولاد کی دینی تعلیم و تربیت ‘ پر ہوگا ۔ بعد جمعہ مولانا غلام نبی شاہ نقشبندیؒ کا مدلل انگریزی اردو تربیتی لٹریچر دستیاب رہے گا ۔۔
از: مولاناشاہ محمدعبدالکریم
شارح رموز ِ قرآن و حدیث مولانا غوثوی شا ہ کا تعارف
حیدرآباد کے مفسر قرآن الحاج حضرت مولانا صحوی شاہ علیہ الرحمہ کے فرزندخلیفہ و جانشین اور سلسلہ صحویہ غوثیہ کمالیہ کی مسند رشد وہدایت پر فائز شخصیت مولانا غوثوی شاہ 71سالہ عالم دین شیخ طریقت ہیں ۔ آپ نے علوم اسلامیہ کے ہر شعبہ پر خامہ فرسائی کی چاہے وہ علم قرآن ہو یا علم حدیث علم فقہ ہو یا علم تصوف علم کلام ہو یا علم نقش واعداد نیز اپنی سُلجھی ہوئی زبان میں اردو ادب وشاعری کو بھی اک نئی جہت بخشی ۔ بزرگانِ دین کی بعض عربی،فارسی اور کئی کتابوں کے تراجم شائع فرماکر نہ صرف اہل سلسلہ بلکہ عامۃ المسلمین کی تشنگی علم ومعرفت کی پیاس بجھائی ۔ اس کے علاوہ مختلف چارٹوں اور کتابوں کے ذریعہ مختلف مسائل پر دلائل وبراہین کے ذریعہ عقائد اہل سنت والجماعت کی حقانیت واضح فرمایا ۔آپ نے ابتک 75تصانیف شائع فرمائیں ۔ اس کے علاوہ آپ وقت وحالات کے تناظر میں اسلام کی سچی تصویر پیش کرنے کی خاطر کئی اہم ملک گیر کانفرنسوں کا انعقاد عمل میں لاچکے ہیں ۔ آپ اپنے آباواجداد کے انداز میں شریعت وطریقت کے اہم نکات اور تشریح ،تفہیم کلمہ اور نمازؔوروزہؔکی اہمیت وحقیقت جو نجات اخروی کیلئے نہایت ضروری ہیں آسان فہم دل نشین زبان میں سمجھانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اس طرح مردہ دلوں میں ایمان کی روح پھونکی جاتی ہے جس کیلئے عالم اسلام آپ کا مدّاح ہے۔ چنانچہ آج 47سال سے اب تک سینکڑوں لوگ آپ کے دست حق پرست پر بیعت کرنے کی سعادت حاصل کرچکے ہیں ۔ الغرض خلوت ہو یا جلوت ہر حال آپ پرمتوجہ بحق کی کیفیت اور ’’استحضار علمی ‘‘طاری رہتی ہے۔تصنیف اور تالیف کے فن سے ہٹ کرآپ اپنی تقریر اور وعظ بیانی کا ایک انوکھا اور سلجھاہوا اندازرکھتے ہیں۔ 25 سال قبل حیدرآباد دوردرشن سے آپ کے مختلف عنوانات پر تقاریر ہو چکی ہیںاور حیدرآبادکے مشہور اخبارات میںآپکے بیانات شائع ہوتے ہیں۔اللہ آپ کی عمر واقبال میں اضافہ فرمائے اور آپ کے فیوض ظاہری وباطنی سے سب کو مالامال فرمائے۔ آمین
حضرت حامد پاشاہ کا دیوان عقیدت، محبت اور ادب کا مجموعہ
مفتی خلیل احمد کے ہاتھوں ’کنزالعرفان‘ کی رسم اجراء، مولانا ممشاد پاشاہ کا خطاب
حیدرآباد 14 مئی (پریس نوٹ) مولانا مفتی خلیل احمد امیر جامعہ، جامعہ نظامیہ کے ہاتھوں مولانا سید شاہ محمد عبدالقادر قادری الباقری حامد پاشاہؒ کے دیوان موسوم بہ ”کنزالعرفان” کی بزم طارق ؒ کے زیراہتمام دوبارہ اشاعت پر رسم اجراء عمل میں لائی گئی۔ حضرت سید شاہ محمد باقر حسینی محبوب اللہ ثانی فتح اللہ المعروف حضرت فقیر پاشاہ طارقؒ کے عرس شریف کے موقع پر دیوان ”کنزالعرفان” کی رسم اجراء تقریب منعقد ہوئی۔مولانا سید شاہ محمد باقر حسینی قادری الباقری فقیر پاشاہ سجادہ نشین نے نگرانی کی۔ مرتب ”کنز العرفان” مولانا سید شاہ محمد سیف اللہ حسینی قادری الباقری سیف پاشاہ صدر بزم طارق نے خیر مقدم کیا۔ رسم اجراء کے موقع پر نبیرہ حضرت سید زرد علی شاہ مہاجر مکیؒ مولانا سید محمد علی قادری الہاشمی ممشاد پاشاہ صدر مرکزی مجلس قادریہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ کائنات کی ہر چیز اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ یہ سب خالق کائنات کی صناعی کا شاہکار ہے اور اس بات کی دعوت فکر دیتی ہے کہ ہم اس کی تخلیق کے کمال اور اس کی بے مثال قدرت کو پہچانیں۔ رسم اجراء تقریب میں شہر کے علماء و مشائخین کی کثیر تعداد میں شرکت کی ۔ جناب سید حسین پاشاہ قادری الباقری نے شکریہ ادا کیا ۔