نیویارک : مرد آہن مرحوم صدام حسین کے خلاف سبوتاژ کی خفیہ امریکی مشن کو تقریباً دو دہائیاں گزر چکی ہیں جسے خصوصی آپریشنز فورسیس نے انجام دیا تھا اور اس میں عراق کے سابق صدر صدام حسین کو گرفتار کرلیا گیا تھا ۔اس آپریشن سے متعلق تفصیلات ایک بار پھر منظر عام پر آگئی ہیں ۔ 7 ڈسمبر2003ء کو سابق عراقی صدر مرحوم صدام حسین کی گرفتاری کے اس امریکی آپریشن کا حصہ رہنے والے ایک اہلکار نے اس حوالے سے اپنے تجربے کی معلومات شیئر کی ہیں ۔ ایک ٹیلی ویژن میں ریٹائرڈ آرمی کمانڈر سارجنٹ کیون ہالینڈ نے وضاحت کی کہ ڈیلٹا فورس کی ٹیم نے عراقی صدر کو گرفتار کرنے کے بعد کہا کہ ’’ صدر بش انہیں سلام بھیجتے ہیں ‘‘ ۔ وہ صدر صدام جو زیر زمین ایک گڑھے میں چھپے ہوئے تھے کو نکال کر باہر لے گئے تھے ۔ اس وقت بش جونیئر امریکہ کے صدر تھے ، کیون ہالینڈ نے ڈینجر کلوز کے عوان سے اپنی سوڈ میں مشن کو مشکل اور حقیقت پسندانہ کے طور پر بیان کیا ۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ امریکی دستے تک یہ اطلاع پہنچی تھی کہ صدام حسین عراق کے ایک چھوٹے سے زرعی قصبے کی زمین میں ایک سوراخ میں چھپا ہوا ہے ۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اس سوراخ کو پتوں اور یت کی ایک تہہ سے ڈھانپ دیا گیا تھا ۔ اس کے مقام کو چھپانے کیلئے اسے سٹائروفوم سے بند کردیا گیا تھا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ عراقی صدر نے اپنی شناخت ظاہر ہونے کے بعد امریکی ٹیم سے مذاکرات کی اپیل بھی کی تھی ۔ اس کے بعد عراق کی امریکی آشیرواد سے قائم عدالت نے مرد آہن مرحوم صدام حسین کو موت کی سزا سنائی گئی اور 30ڈسمبر 2006کو شہید کردیا گیا۔