مرکزی حکومت سے مفت تقسیم کئے جانے والے 10 کیلو چاول میں 5 کیلو کی کٹوتی

   

سبسیڈی کو بجٹ میں 90 ہزار کروڑ تک گھٹا دیا گیا ، مرکز کا اقدام غریب عوام کے منھ سے نوالہ چھین لینے کے مترادف
حیدرآباد ۔ 13 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : ملک میں بھوکے رہنے والوں کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے ۔ بھوک کے عالمی انڈیکس میں ہندوستان کا مقام 101 سے بڑھ کر 107 تک پہونچ گیا ہے ۔ ان حالات میں مرکزی حکومت کو بھوکے رہنے والے عوام کو راحت فراہم کرنے کے لیے خصوصی منصوبہ بندی تیار کرنے کے بجائے غریب عوام کو راشن شاپس سے مفت تقسیم کئے جانے والے 10 کیلو چاول کے کوٹہ کو گھٹا کر 5 کیلو کردیا گیا ہے ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ اس کی وجہ چاول کی قلت ہے ۔ اس سال ملک بھر میں چاول کی پیداوار میں کمی آئی ہے ۔ جس سے غریب عوام میں مفت چاول تقسیم کرنا مشکل ہوگیا ہے ۔ کورونا کی وبا نے غریب عوام کی زندگیوں میں تباہی مچادی ہے ۔ کورونا سے حالت بحال ہوئے ہیں مگر اس کا ابھی مختلف انداز میں عوام کی زندگیوں پر اثر باقی ہے ۔ ان حالات میں مرکزی حکومت کی جانب سے مفت چاول تقسیم کرنے کے کوٹہ کو 10 کیلو سے گھٹا کر 5 کیلو کردینے پر بڑے پیمانے پر تنقیدیں کی جارہی ہیں ۔ ریاست تلنگانہ میں تقریبا 90 لاکھ راشن کارڈس ہیں ۔ ان میں نصف کارڈس کو ہی مرکزی حکومت کی جانب سے چاول تقسیم کیا جارہا تھا ۔ ماباقی نصف کارڈس کو ریاستی حکومت اپنے اخراجات سے چاول تقسیم کررہی ہے ۔ مرکزی حکومت ایک فرد کو 5 کیلو چاول فی کیلو 3 روپئے کے حساب سے دے رہی ہے ۔ جس میں ریاستی حکومت فی کیلو 2 روپئے کا بوجھ برداشت کرتے ہوئے عوام کو ایک روپئے میں فی کیلو چاول سربراہ کررہی ہے ۔ تلنگانہ حکومت اپنے کارڈس میں فی شخص6 کیلو چاول تقسیم کررہی ہے ۔ کورونا کے بعد مرکزی حکومت نے ہر شخص کو 5 کیلو چاول اضافہ تقسیم کیا ۔ ریاستی حکومت نے بھی ہر شخص کو 5 کیلو اضافہ چاول تقسیم کیا ۔ تاہم مرکزی حکومت نے اپنی جانب سے اضافہ دئیے جانے والے 5 کیلو چاول سے دستبرداری اختیار کی ۔ ماضی کی طرح صرف 5 کیلو چاول دینے کا اعلان کیا ہے ۔ اس طرح مرکزی حکومت عوامی تقسیم نظام کو آہستہ آہستہ ختم کردینے کی طرف قدم بڑھا رہی ہے ۔ جس کے پیش نظر غذائی سبسیڈی فنڈز کو گھٹا رہی ہے ۔ سال 2022-23 کے بجٹ میں سبسیڈی کے لیے 2.87 لاکھ روپئے مختص کیا گیا تھا ۔ جس کو سال 2023-24 کے بجٹ میں گھٹا کر 1.97 لاکھ کروڑ روپئے کردیا گیا ہے ۔ 90 ہزار روپئے سبسیڈی گھٹا دی گئی ہے ۔ ملک میں جن ریاستوں میں چاول کی پیداوار زیادہ ہوتی ہے ان ریاستوں سے چاول حاصل کرتے ہوئے دوسری ریاستوں کو چاول سربراہ کرنے کے بجائے مرکزی حکومت تلنگانہ سے چاول حاصل کرنے سے انکار کررہی ہے ۔ ریاستی وزیر سیول سپلائز گنگولہ کملاکر نے مرکزی حکومت کی جانب سے مفت چاول تقسیم کرنے کے کوٹہ میں نصف فیصد کٹوتی کردینے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت غریبوں کی دشمن بن گئی ہے ۔ مفت چاول کے کوٹہ میں کمی کردینا غریب عوام کے منھ سے نوالہ چھین لینے کے مترادف ہے ۔ تلنگانہ حکومت غریب عوام کو مفت چاول تقسیم کرنے کے لیے 5 ہزار کروڑ روپئے تقسیم کررہی ہے ۔۔ ن