اے سی بی کی کارروائی ۔ درگاہ حضرت جان پاکؒ پر بھی عوامی شکایات کا سلسلہ جاری
مریال گوڑہ ۔6 جون ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) ضلع نلگنڈہ کے مریال گوڑہ میں وقف بورڈ کے انسپکٹر کو اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی) نے 10 ہزار روپئے رشوت وصول کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔ اس واقعہ نے ضلع بھر میں سنسنی پھیلا دی ہے اور وقف اداروں کے انتظامی معاملات میں شفافیت اور جوابدہی کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔تفصیلات کے مطابق فروری 2025 میں پیدا اورا منڈل میں ایک صاحب خیر نے مسجد و دیگر کیلئے 900 گز اراضی عطیہ دیا تھا اس اراضی کو نا جائز قبضے سے بچا نے اور وقف گزٹ میں اندراج کروانے کے لئے سی ای او وقف سے درخواست کی جس پر فوری سروے رپورٹ روانہ کرنے کی ہدایت دی گئی ۔ سروے کیا گیا لیکن رپورٹ روانہ کرنے کے لئے نلگنڈہ وقف بورڈ کے انسپکٹر شیخ محمود نے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کو پیش کرنے کے عوض 10 ہزار روپئے رشوت کا مطالبہ کیا تھا۔ متاثرہ شخص نے رشوت دینے کے بجائے اینٹی کرپشن بیورو سے رجوع کرتے ہوئے باقاعدہ شکایت درج کروائی۔شکایت موصول ہونے پر اے سی بی حکام نے منصوبہ بندی کے تحت کارروائی کی۔ مقامی آر ٹی سی بس اسٹینڈ کے قریب جب انسپکٹر شیخ محمود متاثرہ شخص سے 10 ہزار روپئے رشوت وصول کر رہا تھا تو اے سی بی ٹیم نے اچانک چھاپہ مار کر اسے رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیا۔گرفتاری کے بعد اے سی بی حکام نے ملزم کو حراست میں لے کر اس کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔ مزید تحقیقات کے سلسلے میں مِریال گوڑہ کی مندول واری کالونی میں واقع اس کی رہائش گاہ پر بھی تلاشی کارروائی انجام دی گئی۔ حکام کے مطابق معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور مزید شواہد کی روشنی میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اے سی بی ڈی ایس او جگدیش چندر نے بتایاکہ عوام سے کسی بھی سرکاری عہدیدار یا ملازمین رشوت طلب کرنے پر وہ فوری طور پر اے سی بی سے رابطہ کریں۔ بتایا جاتا ہے کہ دوسری جانب متحدہ ضلع نلگنڈہ کی معروف مذہبی درگاہ اور روحانی مرکز، درگاہ حضرت جان پاک شہیدؒ کے زائرین کی جانب سے بھی وقف انتظامیہ کے خلاف مختلف شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ زائرین کا کہنا ہے کہ سالانہ عرس، مذہبی اجتماعات اور دیگر مواقع پر مناسب انتظامات نہ ہونے کے باعث اُنہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔متعدد زائرین نے الزام عائد کیا ہے کہ درگاہ کے انتظامی امور میں متعلقہ وقف اہلکاروں کی جانب سے لاپرواہی برتی جا رہی ہے جس کے نتیجے میں بنیادی سہولیات، صفائی ستھرائی رہنمائی اور زائرین کی سہولت کے انتظامات متاثر ہو رہے ہیں۔ بعض افراد نے مختلف معاملات میں غیر ضروری وصولیوں اور بے ضابطگیوں کی شکایات بھی کی ہیں۔زائرین اور مقامی عوام نے وقف بورڈ کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ درگاہ حضرت جان پاک شہیدؒ کے انتظامات کو بہتر بنایا جائے موصول ہونے والی شکایات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور قصوروار افراد کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔