مسجد اقصیٰ تنازعہ : سلامتی کونسل کا آج ہنگامی اجلاس

,

   

مسلم ممالک کا شدید احتجاج،مسجد اقصی کی شناخت بدلی گئی تو پورا خطہ دھماکہ خیز ہو گا: حسن نصراللہ

یروشلم:مسجد اقصیٰ کے حالیہ تنازع پرجمعرات کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس ہو سکتا ہے۔ ایک اسرائیلی وزیر کے مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے کے تنازع پرمتحدہ عرب امارات اور چین نے اجلاس طلب کرنے کی اپیل کی تھی۔اسرائیل کے انتہائی قوم پرست وزیر سلامتی اتمار بین گویر کے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہونے کے واقعے کی دنیا کے متعدد اور بالخصوص مسلم ممالک میں سخت مذمت کی جارہی ہے۔ چین اور متحدہ عرب امارات نے اس معاملے پر اقوام متحدہ سے سلامتی کونسل کی ہنگامی میٹنگ طلب کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سفارت کاروں کے مطابق جمعرات کے روز یہ میٹنگ ہو سکتی ہے۔ بین گویر منگل کے روز مختصر وقت کے لیے یروشلم میں مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوئے تھے۔ اسرائیلی میڈیا نے ٹیمپل ماؤنٹ کے علاقے میں پولیس افسران کے ساتھ دائیں بازو کے اس قوم پرست سیاستدان کی تصاویر اور ویڈیوز شائع کی تھیں۔جسکے بعدفلسطینیوں کے علاوہ مصر، اردن، سعودی عرب، ترکی اور متحدہ عرب امارات نیز دنیا کے دیگر ملکوں نے بھی بین گویر کے اس اقدام کی مذمت کی ہے۔ دریں اثناء حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے کہا کہ اگر اسرائیل نے مسجد اقصی کی حیثیت اور شناحت بدلنے کی کوشش کی تو یہ خطے کے لیے دھماکہ خیز ہو گی۔ مسجد اقصی کے خلاف اقدامات کا رد عمل صرف فلسطین کے اندر سے نہیں آئے گا باہر سے بھی ہو گا۔ واضح رہے کہ بین گویر نے مسجد اقصی کے بارے میں یہ بھی کہہ رکھا ہے یہ صرف مسلمانوں مسجد نہیں ہے بلکہ یہودیوں کی بھی ہے۔بین گویر کے مسجد اقصی کے دورے پر زخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ نیتن یاہو کے دفتر نے مسجد اقصی کے سٹیٹس کو کے بارے میں ایک بیان میں کہا ہے کہ مسجد اقصی کی موجودہ حیثیت صرف مسلمانوں کو مسجد صرف مسلمانوں کی عبادات کے لیے ہے۔ تاہم ان کی کابینہ کے اہم ترین وزرا مسجد اقصی سمیت پورے یروشلم کو یہودیانے کا ایجنڈا لے کر آئے ہیں۔اس دوران وزیر اعظم نیتن یاہو نے اگلے ہفتے متحدہ عرب امارات کا اپنا مجوزہ دورہ فروری تک کے لیے ملتوی کر دیا ہے۔ حالانکہ اسرائیلی وزیر اعظم کے قریبی ذرائع نے اس بات کی تردید کی ہے کہ دورے کی ملتوی کا مسجد اقصیٰ کے واقعے سے کوئی تعلق ہے۔وزیر اعظم نیتن یاہو نے منگل کے روز ایک بیان جاری کرکے دعویٰ کیا کہ ”وہ ٹمپل ماونٹ (مسجد اقصیٰ کمپاونڈ) میں کسی بھی تبدیلی کے بغیر صورت حال جوں کا توں برقرار رکھنے پر سختی سے کاربند ہیں۔عرب لیگ نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ میں یہودیوں کو عبادت سے روکیاسرائیلی اپوزیشن لیڈر اور سابق وزیر اعظم یائر لیپیڈ نے پیر کے روز متنبہ کیا تھا کہ بین گویر کے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں جانے کے پروگرام سے تشدد بھڑک سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگوں کی زندگیوں کو جان بوجھ کر خطرے میں ڈالنے کی کوشش ہے۔