مسلم آفیسرس سے دشمنانہ سلوک پر امیت شاہ کیخلاف اقوام متحدہ میں شکایت

   

بنگال میں بی جے پی حکومت کی فرقہ پرستانہ حرکتوں پر اپوزیشن ترنمول کانگریس کی ایم پی مہواموئترا کا جرأتمندانہ اقدام

کولکاتا،17 ستمبر (ایجنسیز) ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے الزام عائد کیا ہے کہ مغربی بنگال میں سینئر مسلم آئی اے ایس اور آئی پی ایس عہدیداروں کو مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے ریاست کے دوروں سے متعلق سرکاری تقریبات سے ان کے مذہب کی بنیاد پر مبینہ طور پر دور رکھا گیا۔ انہوں نے اس معاملہ پر اقوام متحدہ کے اقلیتی امور کے خصوصی نمائندے سے رجوع کرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ مہوا موئترا نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر میں اقلیتی امور کے خصوصی نمائندے پروفیسر نکولس لیوراٹ کو روانہ کردہ مکتوب میں دعویٰ کیا کہ تین سینئر عہدیداروں کو جولائی اور اگست میں امیت شاہ کے مغربی بنگال کے دوروں کے دوران تین مواقع پر یا تو سرکاری پروگراموں سے چلے جانے کے لئے کہا گیا یا انہیں شرکت نہ کرنے کی ہدایت دی گئی۔ جن عہدیداروں کے نام مہوا موئترا نے لیے ہیں، ان میں سلی گوڑی کے پولیس کمشنر وقار رضا، مغربی بنگال پولیس کی خصوصی ٹاسک فورس کے سربراہ جاوید شمیم اور آئی اے ایس عہدیدار خلیل احمد شامل ہیں۔ مہوا موئترا نے اس سے قبل سوشل میڈیا پر بھی یہ معاملہ اٹھایا تھا۔ ان کا الزام تھا کہ امیت شاہ کی موجودگی میں وقار رضا کو خیرمقدمی دستے میں شامل ہونے سے روک دیا گیا، جبکہ جاوید شمیم کو مرکزی وزیر داخلہ کی شرکت والی بعض تقریبات میں مدعو نہیں کیا گیا۔ اسی طرح خلیل احمد کو ایک اجلاس سے چلے جانے کے لئے کہا گیا۔ ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ نے اپنے مکتوب میں دعویٰ کیا کہ مذکورہ عہدیداروں کو سرکاری پروٹوکول اور مرکزی وزیر داخلہ کے دوروں کے دوران حکومتی امور کی انجام دہی سے متعلق ذمہ داریاں حاصل تھیں، اس کے باوجود انہیں تقریبات سے دور رکھا گیا، جبکہ دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے ان کے ہم منصبوں کو شرکت کی اجازت دی گئی۔مہوا موئترا نے کہا کہ ان تینوں عہدیداروں میں مشترک بات ان کا مذہب ہے اور یہی چیز انہیں ان ساتھی عہدیداروں سے ممتاز کرتی ہے جنہیں تقریبات میں موجود رہنے کی اجازت دی گئی۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے سے حکومت ہند سے اس مبینہ اخراج کی وجوہات اور اس سلسلہ میں جاری کی گئی ہدایات کے اختیار اور ماخذ کے بارے میں معلومات طلب کرنے کی اپیل کی ہے۔مہوا موئترا نے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے سے یہ بھی درخواست کی کہ حکومت کو اس امر کو یقینی بنانے کی ہدایت دی جائے کہ کسی بھی عہدیدار کو مذہب کی بنیاد پر سرکاری تقریبات سے خارج نہ کیا جائے اور پولیس و سکیورٹی ادارے اقلیتی برادریوں کے ساتھ بلاامتیاز اپنی ذمہ داریاں انجام دیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے سے امیت شاہ کے دوروں سے متعلق سی سی ٹی وی ریکارڈ، سفری ڈائریوں اور دیگر متعلقہ دستاویزات محفوظ رکھنے کی بھی درخواست کی ہے۔مہوا موئترا نے اپنے مکتوب میں انسانی حقوق کے عالمی منشور اور شہری و سیاسی حقوق سے متعلق بین الاقوامی معاہدے کی دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مبینہ کارروائی امتیازی سلوک کے زمرے میں آتی ہے۔تاہم، خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق مہوا موئترا کی جانب سے عائد کردہ ان الزامات کی آزادانہ طور پر توثیق نہیں ہوسکی ہے۔ اس معاملہ میں ان کی جانب سے سوشل میڈیا پر کیے گئے دعوے کے بعد ڈائمنڈ ہاربر میں ان کے خلاف شکایت بھی درج کی گئی تھی، جس کے بعد سائبر کرائم پولیس نے انہیں پوچھ تاچھ کے لئے طلب کیا تھا۔