مسلکی منافرت کو ہوا دینے والے عناصر سے عوام ہوشیار رہیں:متحد ہ مجلس علماء

   

سرینگر: متحدہ مجلس علما جموں وکشمیر کے کئی اہم اور سرکردہ اراکین کا ایک ہنگامی اور غیرمعمولی اجلاس مجلس کے بانی رکن اور صدر معروف عالم دین جناب مولانا محمد رحمت اللہ میر القاسمی کی صدارت میں منعقد ہوا۔یو این آئی اردو کو موصولہ بیان کے مطابق خصوصی اور اس اہم نوعیت کی نشست میں جموں وکشمیر کے اندر مسلکی ہم آہنگی کو زک پہنچانے کی منفی سرگرمیوں پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کشمیر میں اہل سنت والجماعت کے مختلف مکاتب فکرکے درمیان الزامات اور جوابی الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ سرزمین کشمیر اور یہاں کے عوام اس طرح کی شر انگیز کوششوں کے نہ تو متحمل ہو سکتے ہیں اور نہ ہی کسی بھی فرد یا جماعت کو اسکی اجازت دی جاسکتی ہے کہ وہ مسلمہ اکابر ملت کی شان میں گستاخی اوربد تمیزیوں کا ارتکاب کرے ۔مقررین نے تمام مکاتب فکر کے ذمہ دار علمائکے مابین موجودہ تلخ صورتحال کے تناظرمیں تمام ذمہ دار علما کے مابین باہمی ملاقات اور تبادلہ خیال کو وقت اور حالات کا ناگزیر تقاضہ قرار دیتے ہوئے یہ تجویز پیش کی کہ اس ضمن میں متحدہ مجلس علما مورخہ جمعرات28 جولائی ایک مشاورتی اجلاس طلب کرے اور اس میں ایک مشترکہ لائحہ عمل اور حکمت عملی مرتب کرکے مختلف مکاتب فکر کے علما ، خطبا اور مبغلین کو اس پر سختی سے کاربند رہنے کے لئے پابند کیا جائے ۔