مشرق وسطی کی دھماکو صورتحال

   

تھی جو دنیا اِدھر کی اُدھر ہوگئی
ہاں مگر زندگانی بسر ہوگئی
مشرق وسطی اور خلیج کی صورتحال مسلسل بگڑتی جا رہی ہے اور کشیدگی میں کمی کی بجائے اس میں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے ۔ ایران اور امریکہ کے مابین فوجی تصادم بھی رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے اور فریقین کی جانب سے کچھ وقفہ کے بعد ایک دوسرے کے خلاف حملے کئے جا رہے ہیں۔ کچھ وقت سکون دکھائی دے رہا ہے ۔ بات چیت کی کوششیں بھی جاری رہنے کا دعوی کیا جا رہا ہے ۔ تاہم کوئی نتیجہ اس بات چیت سے برآمد نہیں ہو رہا ہے ۔ اس دوران سعودی عرب کو بھی اس تنازعہ کا عملی طور پر حصہ بنانے کی کوششیں شروع ہوگئی ہیں۔ یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملے کئے جا رہے ہیں۔ تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ سعودی عرب کے کچھ مخصوص علاقوں پر حملے کئے گئے ہیں۔ حوثی باغیوں نے باب المندب پر قبضہ کرلینے کے عزائم کے ساتھ یہ حملے شروع کئے ہیں اور یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ باب المندب پر قبضہ کرتے ہوئے یہاں بھی بحری جہازوں کی آمد و رفت کو کنٹرول کرلیا جائے گا ۔ اگر واقعتا ایسا ہوتا ہے تو پھر عالمی سطح پر تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ پائیں گی ۔ آئیل ٹینکرس اور تجارتی جہازوں کی آمد و رفت متاثر ہوتی ہے تو اس کے نتیجہ میں دنیا بھر میں تیل کا بحران پیدا ہوسکتا ہے اور توانائی ضروریات کی تکمیل مشکل ہوسکتی ہے ۔ مشرق وسطی کی کشیدگی اور نامساعد حالات کی وجہ سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھاری اضافہ ہو رہا ہے ۔ تیل کی قیمتیں 100 ڈالرس فی بیاریل کو پار کر گئی ہیں۔ قیمتوں میںمزید اضافے کے اندیشے بھی لاحق ہیں۔ اس صورتحال نے ساری دنیا میں تشویش کی لہر پیدا کردی ہے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس صورتحال پر تشویش کا کئی گوشوں کی جانب سے اظہار تو کیا جا رہا ہے لیکن ان حالات کو بہتر بنانے اور کشیدگی کو کم کرنے کیلئے اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں۔ علاقہ کے ممالک ہوں یا علامی طاقتیں ہو یا پھر اقوام متحدہ ہو سبھی اس معاملے میں صرف زبانی جمع خرچ پر اکتفاء کر رہے ہیں اور کوئی عملی اقدامات شروع نہیں کئے گئے ہیں۔ یہ بے عملی اور خاموشی صورتحال کو مزید کشیدہ اور نازک بنانے کا سبب بن رہی ہے ۔
ایران ۔ امریکہ کشیدگی ‘ حوثیوں کے حملے اور اسی طرح کے حالات کے درمیان اسرائیل کی جانب سے اپنے مقاصد و عزائم کی تکمیل کا سلسلہ جاری رکھا گیا ہے ۔ جنگ بندیک ے باوجود جہاں غزہ میں وقفہ وقفہ سے حملے کئے جا رہے ہیں وہیں اب مغربی کنارہ میں غیر قانونی یہودی بستیاں بسائی جا رہی ہیں۔ وہاں نئے مکانات تعیر کرنے کی تجویز پر عمل شروع کیا جا رہا ہے ۔ ساتھ ہی جنوبی لبنان میں حملوں میں شدت پیدا کردی گئی ہے اور کئی مقامات پر تباہی مچائی جا رہی ہے ۔ اسرائیل کا دعوی ہے کہ وہ حزب اللہ کے خلاف حملے کر رہا ہے اور اپنی سکیوریٹی اور سلامتی کو یقینی بنا رہا ہے ۔ غرض یہ کہ سارے علاقہ کو جنگ و جدال کی کیفیت کا شکار کردیا گیا ہے ۔ کہیں معلنہ جنگ ہے تو کہیں غیر معلنہ کارروائیاں جاری ہیں۔ یہ صورتحال سارے علاقہ کی سلامتی اور سکیوریٹی کیلئے سنگین خطرہ بنی ہوئی ہے اور اس کشیدگی کو روکنے کیلئے اگر فوری اور موثر اقدامات نہیں کئے گئے تو حالات قابو سے باہر ہوسکتے ہیں اور کوئی ایک معمولی واقعہ صورتحال کو انتہائی خطرناک موڑ تک لیجانے کا سبب بھی بن سکتا ہے ۔ اس صورتحال کو بہتر بنانے اور کشیدگی کو کم کرنے کیلئے فوری طور پر حرکت میں آنے کی ضرورت ہے ۔ صرف امریکہ نہیں بلکہ دنیا کے دوسرے طاقتور اور بڑے ممالک کو اس کام میں آگے آنا چاہئے ۔ اپنی دمہ داری کو محسوس کرنا چاہئے اور اقوام متحدہ کو بھی اس کیلئے کوشش کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس کام میں جتنی تاخیر کی جائے گی صورتحال اتنی ہی قابو سے باہر ہونے کے اندیشے ہیں۔
اقوام متحدہ کا جہاں تک سوال ہے تو ایسا لگتا ہے کہ یہ ادارہ محض کاغذی ہو کر رہ گیا اور محض امریکہ کے مفادات کی تکمیل کا ذریعہ بنا ہوا ہے ۔ وہ دنیا کے کسی بھی بڑے تنازعہ کو حل کرنے میں ناکام ہی ثابت ہوا ہے بلکہ کئی معاملات میں تو اس نے پہل تک نہیں کی ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ آج کی دنیا میں محض بیان بازیوں اور زبانی جمع خرچ سے کچھ ہونے والا نہیں ہے اور اس کیلئے عملی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے اور اقوام متحدہ ایسا کچھ کرتا ہوا نظر نہیں آر ہا ہے ۔ دنیا میں امن و سکون اور عوام کیلئے بہتر حالات کیلئے ضروری ہے کہ مشرق وسطی کی کشیدگی کو ختم کیا جائے اور وہاں تصادم روکنے کے اقدامات کئے جائیں۔
قوانین کا بیجا استعمال
اترپردیش کی آدتیہ ناتھ حکومت کو ایک بار پھر عدالت سے پھٹکار کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ عدالت نے تبصرہ کیا کہ ایسا لگتا ہے کہ یو پی حکومت غنڈہ ایکٹ کو ہراسانی کا ذریعہ بنا کر استعمال کر رہی ہے۔ عدالت نے ریاست میں غنڈہ ایکٹ سے متعلق مقدمات کی تعداد میں اضافہ پر کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے اس قانون کو مخالفین کو ہراساں کرنے کا ذریعہ بنالیا ہے ۔عدالت نے ایک درخواست گذار زاہد علی کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے یہ تبصرہ کیا جس کو چھ ماہ کیلئے ضلع بدر کرنے کا حکم دیا گیا تھا ۔ عدالت کے یہ ریمارکس اترپردیش میں قوانین کے بیجا استعمال کو ظاہر کرتے ہیں کہ کس طرح سے قوانین کے نام پر مخالفین اور خاص طور پر اقلیتوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے اور انہیں اذیتیں دی جا رہی ہیں ۔ حکومتیں قوانین عوام کی بہتری اور سہولت کیلئے بناتی ہیں لیکن آدتیہ ناتھ کی حکومت عوام کو ہراساں کرنے قوانین تیار کر رہی ہے ۔ عدالت کے اس تبصرہ کے بعد کم از کم یو پی حکومت کو اپنی روش میں تبدیلی لانے اور قوانین کی پاسداری کرنے کی ضرورت ہے