حیدرآباد 8 نومبر (سیاست نیوز) سپریم کورٹ سے معاشی پسماندہ طبقات کیلئے مرکزی حکومت کے تجویز کردہ 10 فیصد تحفظات کو برقرار رکھنے کے بعد مختلف گوشوں سے کئی مباحث شروع کئے جاچکے ہیں اور اس فیصلہ سے دلت اور پسماندہ طبقات میں ناراضگی پائی جانے لگی ہے ۔ لیکن EWS کے تحت 10 فیصد تحفظات سے عام زمرے کے وہ تمام شہری استفادہ کے مستحق ہیں جن کی آمدنی سالانہ 8لاکھ سے کم ہے یعنی ماہانہ 66 ہزار سے کم آمدنی رکھنے والے ہندستانی شہری جو کسی تحفظات کے زمرہ میں نہیں آتے وہ EWS کے تحت 10 فیصد تحفظات سے اعلیٰ تعلیم کے علاوہ ملازمت کے حصول میں استفادہ کرسکتے ہیں۔ مسلمانوں کے وہ طبقات جو کہ اوبی سی زمرہ میں شامل نہیں ہیں وہ تمام EWS کے تحت 10 فیصد تحفظات کیلئے مسابقت کرسکتے ہیں۔ سید ‘ پٹھان‘ عرب اور مغل جو بی سی (ای) زمرہ میں شامل نہیں ہیںان میں سے اگر کسی آمدنی سالانہ 8 لاکھ روپئے سے کم ہے تو وہ می سیوا کے ذریعہ درخواست داخل کرکے EWS سرٹیفیکیٹ حاصل کرسکتا ہے اور اس سرٹیفیکیٹ کی بنیاد پر وہ 10فیصد تحفظات میں اپنا حصہ پانے کی کوشش کرسکتا ہے۔ مرکز کی جانب سے معاشی پسماندہ شہریوں کیلئے خواہ وہ کسی بھی مذہب یا ذات پات سے تعلق رکھتے ہوں تحفظات سے استفادہ کیلئے EWS سرٹیفیکیٹ کا ہونا لازمی ہے اور یہ سرٹیفیکیٹ رکھنے والے ہندستانی شہری 10 فیصد محفوظ ملازمتوں اور اعلیٰ تعلیم کیلئے نشستوں پر اپنا دعویٰ کرسکتے ہیں اگر وہ مسابقتی دوڑ میں آگے ہوتے ہیں تو انہیں کامیابی حاصل ہوگی۔ ایسے مسلم خاندان جو تحفظات کے کسی زمرہ میں نہیں آتے ان کو EWS تحفظات کے متعلق بحث ومباحثہ کا حصہ بننے کی بجائے اس سے استفادہ کیلئے کوشش کرنی چاہئے اور ممکنہ حد تک معاشی ‘ تعلیمی اور سماجی مؤقف کو بہتر بنانے کی کوششوں کو تیز کرکے سب سے پہلے EWS سرٹیفیکیٹ پانے کیلئے درخواستیں داخل کرکے سرٹیفیکیٹ حاصل کرنا چاہئے ۔ 8لاکھ سے کم آمدنی رکھنے والے وہ تمام شہری جو کسی بھی درجہ کے تحفظات کیلئے اہل نہیں ہیں وہ EWS کے تحت تحفظات کے اہل قراردیئے گئے ہیں۔ EWS تحفظات موجودہ 50 فیصد تحفظات میں سیہونگے یا اس میں اضافہ کرکے دیئے جا رہے ہیں اس مسئلہ پر بحث میں پڑنے کی بجائے ان سے استفادہ کے ذریعہ اپنے حالات کو بہتر بنانے کی فکر کی جانی چاہئے ۔