رُخِ روشن کے آگے شمع رکھکر وہ یہ کہتے ہیں
اُدھر جاتا ہے دیکھیں یا اِدھر آتا ہے پروانہ
مغربی بنگال میں آج دوسرے مرحلے کی رائے دہی ہے۔ دوسرے مرحلے میں جملہ 142 اسمبلی حلقوں کیلئے ووٹ ڈالے جائیں گے ۔ پہلے مرحلے میں 152 حلقوں کیلئے رائے دہی ہوچکی ہے اور دوسرے مرحلے کی انتخابی مہم 27 اپریل کو اختتام پذیر ہوئی ہے ۔ بنگال میں رائے دہی اور انتخابات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ بنگال اسمبلی انتخابات کے جو نتائج سامنے آئیں گے ان کے ملک بھر پر اثرات مرتب ہونے کی امید ہے ۔ بی جے پی نے ریاست میں اقتدار حاصل کرنے کیلئے ہرممکن جدوجہد کی ہے اور اس نے اپنی ساری طاقت انتخابی مہم میںجھونک دی تھی ۔ وزیر اعظم نریندر مودی سے وزیر داخلہ امیت شاہ تک ‘ کئی ریاستوں کے چیف منسٹروں سے لے کر بے شمار مرکزی وزراء تک اور دوسری ریاستوں کے بی جے پی قائدین نے انتخابی مہم میں انتہائی سرگرمی سے حصہ لیا تھا اور ریاست کے رائے دہندوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی تھی ۔ جس اعتبار سے بی جے پی نے اس بار بنگال انتخابات میں مقابلہ کیا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ بی جے پی اپنے آئندہ کے ایجنڈہ اور مستقبل کی حکمت عملی کو آگے بڑھانے کیلئے بنگال اسمبلی انتخابات کو بہت زیادہ اہمیت دیتی ہے ۔ بی جے پی نے ساتھ ہی پنجاب میںاقتدار ہتھیانے کے منصوبوںپر عمل کرنا بھی شروع کردیا ہے ۔ عام آدمی پارٹی میںانحراف کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اس کے سات ارکان راجیہ سبھا کو اپنی صفوں میںشامل کرلیا ہے ۔ اب کہا جا رہا ہے کہ عام آدمی پارٹی کے مزید دو ارکان لوک سبھا بھی بی جے پی میں شامل ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پنجاب میں عام آدمی پارٹی کو عملا ختم کرتے ہوئے اس کے 63 ارکان اسمبلی کو توڑتے ہوئے بی جے پی خود اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتی ہے ۔ یہ دعوی بھی کیا جا رہا ہے کہ راگھو چڈھا نے پنجاب میں 43 ارکان اسمبلی کو ان کا ساتھ دینے کیلئے تیار کرلیا ہے اور مزید ارکان اسمبلی کی خرید و فروخت کی کوششیں جاری ہیں۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ بی جے پی آئندہ دنوں میںکچھ بڑا کرنا چاہتی ہے اور وہ اپنے ایجنڈہ کو آگے بڑھانے کے منصوبے پر عمل کر رہی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بنگال میں ساری طاقت جھونک کر مقابلہ کیا گیا تھا اور پھر پنجاب پر بھی کام کیا جا رہا ہے ۔
بی جے پی سارے ملک میں اپنا تسلط چاہتی ہے ۔ وہ بنگال کو تاحال فتح نہیںکرپائی تھی ۔ بنگال میںاس کا وجود بھی برائے نام ہی تھا ۔ تاہم وہ لگاتار کوشش کرتے ہوئے بنگال میں اپوزیشن کا موقف حاصل کرنے میںکامیاب رہی تھی ۔ تاہم پارٹی ریاست میںاقتدار حاصل کرنا چاہتی ہے ۔ اس کے جو کچھ بھی عزائم ہیں وہ ابھی آشکار نہیں ہوئے ہیںلیکن یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ بی جے پی کو اپنے ایجنڈہ کو آگے بڑھانے کیلئے مزید سیاسی طاقت کی ضرورت ہے اور وہ کسی بھی قیمت پر بنگال پر قبضہ کرنا چاہتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بنگال میں ہر انتخابی ہتھکنڈہ اور حربہ اختیار کیا گیا تھا ۔ کئی سرکاری ایجنسیوں نے بھی اس معاملے میں بی جے پی کی دل کھول کر مدد کی ہے ۔ الیکشن کمیشن پر تو اس طرح کے الزامات بالکل عام بات ہوگئے ہیں۔ اس صورتحال میں بنگال کے عوام کو اپنی سیاسی سمجھ بوجھ اور فہم و فراست کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہیں اس بات کو ذہن نشین رکھتے ہوئے اپنے ووٹ کا استعمال کرنا چاہئے کہ ان کا یہ ووٹ صرف بنگال کی سیاست کیلئے نہیں بلکہ ملک کیلئے بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہوگا ۔ یقینی طور پر ان کے ووٹ سے بنگال کی حکومت قائم ہوگی لیکن اس کے اثرات ملک بھر پر بھی مرتب ہونگے اور جو اندیشے ہیں کہ یہ اثرات مثبت نہیں ہونگے بلکہ منفی ہی ہوسکتے ہیں بے بنیاد نہیںہوسکتے ۔ بی جے پی نے ہمیشہ ہی ہٹ دھرمی والا اور آمرانہ رویہ اختیار کیا تھا اور اس نے کبھی بھی عوامی فلاح و بہبود اور بہتری پر توجہ نہیں دی ۔ وہ منفی ایجنڈہ کو ہی آگے بڑھاتی رہی ہے اور آئندہ کیلئے بھی ایسے ہی اندیشے ہیں۔
بی جے پی نے انتخابات جیتنے کیلئے جہاں خود کافی محنت کی ہے وہیں اس نے اپنے آلہ کار اورا یجنٹوں کو بھی پوری شدت سے استعمال کیا ہے ۔ بنگال کے عوام کو اب فیصلہ کرنا چاہئے کہ وہ کس کا ساتھ دیں گے ۔ اس بات کو پیش نظر رکھنا چاہئے کہ ممتابنرجی کی قیادت میں ترنمول کانگریس نے گذشتہ پندرہ برس میں بنگال کو ترقی دینے کیلئے ہرممکن اقدامات کئے ہیں۔ ریاست میں لا اینڈ آرڈر کو برقرار رکھا ہے ‘ فرقہ پرست طاقتوں کو سر ابھارنے کا موقع نہیں دیا ہے ۔ بنگال کے عوام کو منفی سیاست اور مثبت کارکردگی کو پیش نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے اور فرقہ پرست طاقتوں کو ان کا ایجنڈہ آگے بڑھانے کا موقع نہیں دینا چاہئے ۔