ملک کی ضلعی عدالتوں میں زیر التواء کریمنل کیسس سے انصاف رسانی میں تاخیر

   

دہلی ، چندی گڑھ اور ہماچل پردیش سرفہرست، عدلیہ میں ججس کی تعداد میں ا ضافہ کی ضرورت

حیدرآباد۔7 ۔اگسٹ۔(سیاست نیوز) ملک کی ضلعی عدالتوں میں زیر التواء کریمنل کیسس کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ایک سروے کے مطابق 10 جولائی 2026 تک ملک میں ایک لاکھ آبادی پر 2715 کریمنل کیسس زیر التواء ہے۔ ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں میں زیر التواء کریمنل کیسس کی تعداد مختلف ہے۔ دہلی میں ایک لاکھ کی آبادی پر زیر التواء 6683 کریمنل کیسس کے حساب سے ملک میں سرفہرست ہے۔ چندی گڑھ اور ہماچل پردیش میں بھی ضلعی عدالتوں میں زیر التواء کریمنل کیسس کی تعداد زیادہ ہے اور وہ ملک میں دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہے۔ مقدمات کے معاملہ میں شمال مشرقی ریاستوں کے اعداد و شمار حوصلہ افزاء ہیں۔ میزورم ، ناگالینڈ اور منی پور میں زیر التواء مقدمات کی تعداد کم ہے ۔ سروے کے مطابق تحت کی عدالتوں نے انصاف رسانی کے نظام کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ برسوں سے زیر التواء مقدمات میں متاثرین کو انصاف ملے اور خاطیوں کو سزا کا اعلان کیا جائے۔ بنیادی سطح پر عدالتوں میں ججس کی کمی زیر التواء مقدمات کی تعداد میں اضافہ کی اہم وجہ بتائی جاتی ہے ۔ تحت کی عدالتوں کے علاوہ ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ میں مجموعی زیر التواء مقدمات کی بڑھتی تعداد پر تشویش کا اطہار کیا جارہا ہے ۔ سپریم کورٹ میں 9 لاکھ سے زائد مقدمات زیر التواء بتائے جاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کریمنل کیسس کے زائد عرصہ تک زیر التواء ہونے سے انصاف میں تاخیر ، انصاف سے محرومی کے نظریہ کو استحکام حاصل ہوتا ہے۔ عوام تحت کی عدالتوں میں انصاف کی امید کرتے ہیں اور اگر مقدمات کی یکسوئی میں برسوں لگ جائیں تو مایوسی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ بسا اوقات زائد مدت تک مقدمات کی عدم یکسوئی کی صورت میں ملزمین سزا سے بچ جاتے ہیں۔ چندی گڑھ میں ہر ایک لاکھ کی آبادی میں 5963 اور ہماچل پردیش میں 5953 کریمنل کیسس زیر التواء ہیں۔ زیر التواء کریمنل کیسس کے معاملہ میں تلنگانہ اور آندھراپردیش کا ریکارڈ بہتر رہا ہے جہاں ایک لاکھ کی آبادی میں زیر التواء مقدمات محض ایک ہزار سے کچھ زائد ہیں۔1/k