کولکاتا 27 مئی:(ایجنسیز) مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد ترنمول کانگریس کے اندر اختلافات شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ پارٹی سربراہ ممتا بنرجی کو اس وقت بڑا سیاسی جھٹکا لگا جب ٹی ایم سی کی سینئر رکن پارلیمنٹ کاکولی گھوش نے پارٹی کے تمام عہدوں سے استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا۔کاکولی گھوش کئی دہائیوں سے ترنمول کانگریس سے وابستہ رہی ہیں اور انہیں ممتا بنرجی کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ انہوں نے تقریباً دس ماہ تک لوک سبھا میں پارٹی کی چیف وہپ کے طور پر خدمات انجام دیں، تاہم حالیہ دنوں میں انہیں اس عہدے سے ہٹا کر کلیان بنرجی کو ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ اس فیصلے کے بعد سے ان کی ناراضگی کھل کر سامنے آنے لگی تھی۔کاکولی گھوش نے سوشل میڈیا پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ان کا سیاسی سفر کئی دہائیوں پر محیط ہے اور انہیں وفاداری کا یہی صلہ ملا ہے۔ اس بیان کے بعد سے ہی سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں شروع ہو گئی تھیں کہ وہ جلد بڑا قدم اٹھا سکتی ہیں۔اطلاعات کے مطابق مرکزی حکومت نے ان کی سیکورٹی کو وائی کیٹیگری تک بڑھا دیا ہے۔ دوسری جانب مغربی بنگال میں انتخابی ناکامی کے بعد پارٹی کے کئی رہنما ناراض بتائے جا رہے ہیں۔ کاکولی گھوش حال ہی میں کلیانی میں منعقدہ ایک انتظامی جائزہ میٹنگ میں بھی شریک ہوئیں جہاں سویندو ادھیکاری موجود تھے۔ اس میٹنگ میں ٹی ایم سی کے متعدد ارکان اسمبلی نے بھی شرکت کی۔ باراسات تنظیمی ضلع صدر کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے بعد کاکولی گھوش نے انتخابی حکمت عملی تیار کرنے والی تنظیم آئی پیک پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق پارٹی کے اندرونی اختلافات اب کھل کر سامنے آنے لگے ہیں۔
ادھر بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ سومترا خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹی ایم سی کے تقریباً 50 ارکان اسمبلی اور 20 ارکان پارلیمنٹ پارٹی قیادت سے ناراض ہیں اور اگر بی جے پی کی مرکزی قیادت اجازت دے تو وہ پارٹی تبدیل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورت میں ترنمول کانگریس کا وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ دنوں 100 سے زائد کونسلرز کے استعفوں نے بھی پارٹی قیادت کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ بعض رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ کئی اہم رہنما پارٹی پالیسیوں سے مطمئن نہیں ہیں۔سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں بھی جاری ہیں کہ مانسون اجلاس کے آس پاس ٹی ایم سی کے کچھ رہنما بی جے پی میں شامل ہو سکتے ہیں، تاہم ابھی تک ترنمول کانگریس کی جانب سے ان دعوؤں پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔