منوگوڑ کے بعد ٹیچرس ایم ایل سی نشست پر ٹی آر ایس کی نظریں

   

خانگی ٹیچرس کی پہلی مرتبہ فہرست رائے دہندگان میں شمولیت، ٹیچرس تنظیموں کی حکومت سے ناراضگی اہم مسئلہ
حیدرآباد۔/9 نومبر، ( سیاست نیوز) منوگوڑ اسمبلی حلقہ کی کامیابی کے بعد ٹی آر ایس کے حلقوں میں جشن اور جوش و خروش ابھی ختم نہیں ہوا کہ پارٹی نے ٹیچر ایم ایل سی نشست کا نشانہ مقرر کیا ہے۔ حیدرآباد، رنگاریڈی اور محبوب نگر اضلاع پر مشتمل ٹیچرس زمرہ کی کونسل نشست کیلئے انتخابات مارچ میں ہوں گے۔ پارٹی قیادت نے منوگوڑ ضمنی چناؤ کی طرح کونسل کی نشست کیلئے تینوں اضلاع میں وزراء اور ارکان اسمبلی و کونسل کو اہم ذمہ داریاں دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ٹیچرس کے ناموں کی فہرست رائے دہندگان میں شمولیت کی باقاعدہ مہم چلائی جارہی ہے اور ٹی آر ایس نے خانگی اسکولوں کے ٹیچرس پر توجہ مرکوز کی ہے۔ خانگی اسکولوں کے انتظامیہ کی اسوسی ایشنوں کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے ٹی آر ایس کی تائید کی ترغیب دی گئی۔ یہ پہلا موقع ہے جب الیکشن کمیشن نے خانگی ٹیچرس کو بھی فہرست رائے دہندگان میں شمولیت کی اجازت دی ہے۔ ایسے ٹیچرس جو آٹھویں جماعت اور اس کے بعد کی کلاسیس کیلئے تین سالہ تعلیم کا تجربہ رکھتے ہیں وہ اپنے نام فہرست رائے دہندگان میں شامل کراسکتے ہیں۔ ٹیچرس کو گذشتہ تین برسوں کا سالیری اسٹیٹمنٹ کے علاوہ ای پی ایف اور ای ایس آئی کی تفصیلات متعلقہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کے پاس جمع کرانی ہوں گی۔ الیکشن کمیشن نے ناموں کی شمولیت کیلئے ابتداء میں 7 نومبر کی تاریخ مقرر کی تھی لیکن خانگی اسکولوں کی نمائندگی کے بعد تاریخ میں توسیع کی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹی آر ایس نے خانگی ٹیچرس پر توجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کونسل کی اس نشست پر باآسانی کامیابی حاصل کی جائے۔ ٹیچرس کی تنظیمیں گذشتہ سال ڈسمبر سے جی او 317 کے خلاف احتجاج کررہی ہیں جس کے تحت ٹیچرس کے زونل سسٹم کی بنیاد پر تبادلے کئے جارہے ہیں۔ ٹیچرس کی تنظیموں کی حکومت سے ناراضگی کے سبب ٹی آر ایس کو ٹیچرس نشست پر کامیابی کے بارے میں اُلجھن پیدا ہوچکی ہے۔ر