کانگریس کے لیے ’ کرو یا مرو ‘کی صورتحال ، ٹی آر ایس کو شکست پر مخالف حکومت نظریات کا اظہار
حیدرآباد۔12 ۔اگسٹ(سیاست نیوز) تلنگانہ میں منگوڈحلقہ اسمبلی کے ضمنی انتخابات تلنگانہ راشٹر سمیتی اور کانگریس دونوں سیاسی جماعتوں کے سیاسی صلاح کاروں کے لئے سخت آزمائشی ثابت ہوسکتے ہیں کیونکہ دونوں سیاسی جماعتوں نے جہاں اپنی سیاسی حکمت عملی تیار کرنے والوں کی خدمات حاصل کی ہوئی ہیں انہیں اب اپنی قابلیت اور صلاحیت ثابت کرنی ہوگی کیونکہ ریاستی اسمبلی کے انتخابات سے قبل حلقہ اسمبلی منگوڈکے ضمنی انتخابات منعقد کئے جانے کی راہ ہموار ہورہی ہے ۔ رکن اسمبلی کومٹ ریڈی راجگوپال ریڈی کے اسمبلی کی رکنیت اور کانگریس سے استعفیٰ کے بعد 21 اگسٹ کو بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت کے فیصلہ کے بعد تلنگانہ راشٹر سمیتی کی انتخابی حکمت عملی تیار کر رہے پرشانت کشور اور کانگریس کی انتخابی حکمت عملی تیار کرنے والے کے سنیل دونوں مشکل صورتحال کا شکار ہوچکے ہیں اور دونوں سیاسی صلاح کاروں کی ٹیم میں شامل افراد صورتحال کا باریکی سے جائزہ لینے میں مصروف ہیں۔ حلقہ اسمبلی منگوڈ کے ضمنی انتخابات میں اگر تلنگانہ راشٹر سمیتی اور کانگریس کے امیدواروں کی شکست ہوتی ہے تو ایسی صورت میں دونوں سیاسی جماعتوں سے زیادہ ان کے لئے منصوبہ سازی کرنے والے اداروں کے ذمہ داروں کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سیاسی ماہرین کا کہناہے کہ منگوڈ حلقہ اسمبلی کے ضمنی انتخابات کانگریس کے لئے ’کرو یا مرو‘ کی صورتحال بن چکے ہیں جبکہ تلنگانہ راشٹر سمیتی کے لئے اس حلقہ اسمبلی میں کامیابی چیالنج سے کم نہیں ہے کیونکہ حلقہ اسمبلی منگوڈ سے مستعفی رکن اسمبلی کا تعلق کانگریس سے ہے اور اگر کانگریس اس نشست پر دوبارہ کامیابی حاصل نہیں کرتی ہے تو ایسی صورت میں کانگریس انتہائی کمزور سیاسی جماعت ثابت ہوگی جبکہ تلنگانہ راشٹر سمیتی جو کہ ریاست میں اقتدار میں ہونے کے باوجود اگر اس نشست پر کامیاب ہونے سے قاصر رہتی ہے تو ایسی صورت میں ان نتائج کو مخالف حکومت نظریات کو حاصل ہونے والے فروغ کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔ تلنگانہ میں اب تک جن حلقہ جات اسمبلی میں ضمنی انتخابات منعقد ہوئے ہیں ان میں 2حلقہ جات اسمبلی پر بھارتیہ جنتا پارٹی نے کامیابی حاصل کی ہے جن میں حلقہ اسمبلی دوباک اور حلقہ اسمبلی حضور آباد شامل ہیں ۔ حلقہ اسمبلی دوباک میں تلنگانہ راشٹر سمیتی کے رکن اسمبلی کی موت کے بعد منعقدہ ضمنی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار رگھونندن راؤ نے کامیابی حاصل کی جبکہ حضور آباد سے مسٹر ایٹالہ راجندر کے استعفیٰ اور بی جے پی میں شمولیت کے فیصلہ کے بعد منعقدہ انتخابات میں ایٹالہ راجندر نے ضمنی انتخابات میں بی جے پی کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی تھی اس طرح 4 حلقہ جات اسمبلی میں دو پر جہاں تلنگانہ راشٹر سمیتی کے ارکان اسمبلی تھے وہاں بھارتیہ جنتا پارٹی نے کامیابی حاصل کی جبکہ مابقی دو حلقہ جات اسمبلی ناگر جنا ساگر اور حضور نگر میں تلنگانہ راشٹر سمیتی نے کامیابی حاصل کی تھی ۔ حضور نگر میں کیپٹن اتم کمار ریڈی کے رکن پارلیمنٹ منتخب ہونے کے بعد مخلوعہ نشست پر منعقد ہونے والے انتخابات میں تلنگانہ راشٹر سمیتی نے کامیابی حاصل کی جبکہ ناگرجنا ساگر میں تلنگانہ راشٹر سمیتی رکن اسمبلی کی موت کے بعد منعقدہ انتخابات میں بھی تلنگانہ راشٹر سمیتی نے کامیابی حاصل کی تھی اس طرح جملہ 4 حلقہ جات اسمبلی میں 2 پر تلنگانہ راشٹر سمیتی اور 2نشستوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی نے کامیابی حاصل کی تھی اور کانگریس کو ان تمام انتخابات میں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تھا اسی لئے اب مجوزہ انتخابات میں کانگریس کی ناکامی پر کانگریس کو انتہائی کمزور قرار دیا جاسکتا ہے جبکہ پرشانت کشور کو رکھنے کے باوجود اگر تلنگانہ راشٹر سمیتی کا ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ایسی صورت میں منگوڈ ضمنی انتخابات پرشانت کشور کی شبیہ کو بھی داغ داربناسکتے ہیں کیونکہ منگوڈ حلقہ اسمبلی کے ضمنی انتخابات ایسی صورت میں منعقد ہونے جا رہے ہیں جب کہ پرشانت کشور کی ٹیم تلنگانہ راشٹر سمیتی کے لئے مسلسل سروے اور حکمت عملی کی تیاری میں مصروف ہے اور کے سنیل کی ٹیم کانگریس کے لئے حکمت عملی کی تیاری اور سروے میں مصروف ہے۔دونوں سیاسی جماعتوں کے پاس موجود حکمت عملی کی تیاری کرنے والی ٹیموں کے باوجود اگر منگوڈ حلقہ اسمبلی سے بی جے پی اپنے امیدوار کو کامیاب بنالیتی ہے تو ایسی صورت میں دونوں سیاسی جماعتوں کے پاس اپنے حکمت عملی تیار کرنے والوں کی اہمیت و وقعت گھٹ جانے کا خدشہ ہے اور کہا جار ہاہے کہ دونوں سیاسی جماعتوں نے اپنے لئے کام کرنے والی ٹیموں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ منگوڈ کے ضمنی انتخابات میں امیدوار اور مقامی مسائل اور زمینی حقائق پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے صورتحال سے باخبر رہیں اور پارٹی کے اعلیٰ قائدین کو انتخابات میں کامیابی کے لئے درکار مشورے دیں۔ ذرائع کے مطابق تلنگانہ میں پرشانت کشور اور کے۔سنیل کے مستقبل کا دار و مدار منگوڈ حلقہ اسمبلی کے ضمنی انتخابات پر منحصر ہوگا۔م