مرکزی وزارت داخلہ نے چوکسی کیلئے الرٹ جاری کیا
نئی دہلی :سائبر فراڈ کے بڑھتے معاملوں کے درمیان مرکزی وزارت داخلہ کی ایک انتہائی اہم رپورٹ سامنے آئی ہے جس سے پتہ چلا ہے کہ موبائل میں موجود 3 ایپ کا سائبر فراڈ میں سب سے زیادہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ وہ ایپ ہیں واٹس ایپ، ٹیلی گرام اور انسٹاگرام۔ یہ تینوں ایپ سائبر فراڈ کرنے والوں کی پسند بنے ہوئے ہیں اور اگر پہلی پسند کی بات کی جائے تو وہ واٹس ایپ ہے۔ یعنی سب سے زیادہ واٹس ایپ کے ذریعہ ہی لوگوں کو بے وقوف بنایا جاتا ہے۔وزارت امور داخلہ کی رپورٹ کے مطابق 2024 کے پہلے 3 ماہ میں واٹس ایپ کے ذریعہ سائبر دھوکہ دہی سے متعلق 43797 شکایتیں ملی تھیں۔ اس کے بعد ٹیلی گرام سے متعلق 22680 اور انسٹاگرام سے متعلق 19800 شکایتیں ملیں۔ وزارت داخلہ کی سالانہ رپورٹ 24-2023 میں کہا گیا ہے کہ سائبر جعلساز ان جرائم کو شروع کرنے کے لیے گوگل سروس پلیٹ فارم کا استعمال کر رہے ہیں۔ گوگل ایڈ پلیٹ فارم کا استعمال کر اس بارڈر سے ٹارگیٹ ایڈ کے لیے کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی جانکاری دی گئی ہے کہ پگ بوچرنگ اسکام‘ یا انویسٹمنٹ گھوٹالہ‘ ایک گلوبل واقعہ ہے اور اس میں بڑے پیمانے پر منی لانڈرنگ یہاں تک کہ سائبر غلامی بھی شامل ہے۔ بے روزگار نوجوانوں، گھریلو خواتین، طلبا اور ضرورت مند لوگوں کو کچھ زیادہ ہی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ لوگ ہر روز بڑی رقم سے ہاتھ دھو رہے ہیں یہاں تک کہ لوگ قرض لے کر سرمایہ کاری کرتے ہیں اور پھر وہ پیسہ بھی ہاتھ سے چلا جاتا ہے۔قابل ذکر ہے کہ انڈین سائبر کرائم کوآرڈنیشن سنٹر نے ایکٹیو ایکشن کے لیے خفیہ جانکاری اور سگنل شیئر کرنے کے لیے گوگل اور فیس بک کے ساتھ پارٹنرشپ کی ہے۔ اس میں ڈیجیٹل قرض دینے والے ایپس اور ان کے سگنل کو نشان زد کرنا، سائبر دھوکہ بازوں کی طرف سے گوگل کے فائربیس ڈومین (فری ہوسٹنگ) کا غلط استعمال، اینڈرائیڈ بینکنگ مالویئر (ہیش) وغیرہ شامل ہیں۔ منظم سائبر کریمنل ہندوستان میں غیر قانونی قرض دینے والے ایپ لانچ کرنے کے لیے اسپانسرڈ فیس بک ایڈ کا استعمال بڑے پیمانے پر کرتے ہیں۔ اس طرح کے لنک کی فعال طریقے سے شناخت کی جاتی ہے اور ضروری کارروائی کے لیے فیس بک اور فیس بک پیج کے ساتھ شیئر کی جاتی ہے۔