موسی ریور فرنٹ پراجکٹ اور حیڈرا کے حق میں ہائی کورٹ کا فیصلہ

   

قبضوں کی برخواستگی کی ہدایت، جسٹس بھاسکر ریڈی کے اجلاس پر 41 درخواستوں کی سماعت

حیدرآباد۔/27 نومبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے موسی ریور فرنٹ پراجکٹ کی راہ میں اہم رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے متاثرین کی جانب سے دائر کی گئی درخواستوں کو مسترد کردیا۔ جسٹس سی وی بھاسکر ریڈی نے پراجکٹ کے حق میں حکومت کے اختیارات کی مکمل تائید کی اور کہا کہ حکومت کو نظام دور حکومت کے آبپاشی قانون اور 2002 کے آبپاشی قانون کے تحت موسی پراجکٹ پر عمل آوری اور حیڈرا کی تشکیل کا اختیار ہے۔ جسٹس سی وی بھاسکر ریڈی نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت دی کہ ذخائر آب میں غیرقانونی طور پر تعمیرات اور قبضوں کے خلاف مناسب فوجداری کارروائی کریں۔ جھیلوں اور ذخائر آب کے تحفظ کیلئے حکومت کے اقدامات بالخصوص حیڈرا کی تشکیل کو ہائی کورٹ نے درست قرار دیا۔ عدالت نے موسی ریور کے تحت متاثرین کی جانب سے دائر کی گئی درخواستوں کی یکسوئی کرتے ہوئے حکومت کو رہنمایانہ خطوط جاری کئے۔ درخواست گذاروں نے شکایت کی کہ پراجکٹ کے نام پر ان کے تخلیہ کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ عدالت نے حکومت کو ہدایت دی کہ موسیٰ ندی کے اطراف غیر مجاز قبضوں کی نشاندہی کیلئے سروے کا اہتمام کریں اور غریب قابضین کی بازآبادکاری کے اقدامات کریں۔ عدالت نے ایف ٹی ایل علاقہ میں غیرقانونی اور غیر مجاز قبضوںکی فوری برخواستگی کی ہدایت دی۔ درخواست گذاروں نے حیڈرا اور موسی ریور فرنٹ پراجکٹ کے خلاف درخواست دی تھی۔ ہائی کورٹ نے تحت کی عدالتوں سے کہا کہ غیر مجاز قبضوں کی برخواستگی کے سلسلہ میں حکم التوا کی اجرائی کے معاملہ میں رہنمایانہ خطوط کی پابندی کریں۔ عدالت نے درخواست گذاروں کے دلائل کو نامنظور کردیا اورکہا کہ حکومت کو آبپاشی قوانین کے تحت پراجکٹ پر عمل آوری کا اختیار ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ جھیلوں اور تالابوں کے حدود میں اگر کسی کو اراضی الاٹ کی گئی ہے تو اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں رہے گی۔ عدالت نے کہا کہ دریا اور ذخائر آب دراصل سماج کا اثاثہ ہیں اور ریاستی حکومت کو ٹرسٹی کے طور پر ان کا تحفظ یقینی بنانا چاہیئے۔ عدالت نے کہا کہ ذخائر آب کے حدود میں اراضیات کے پٹے یا کسی اور مقصد کیلئے اراضی الاٹمنٹ کی قانونی حیثیت نہیں رہے گی۔ عدالت نے کہا کہ اگر حکومت شکم لینڈ یا پٹہ لینڈ پر غیر مجاز قبضوں کی نشاندہی کرتی ہے تو اسے چاہیئے کہ وہ اراضی حاصل کرتے ہوئے معاوضہ ادا کرے۔ جسٹس سی وی بھاسکر ریڈی نے 41 افراد کی جانب سے رٹ پٹیشن کی یکسوئی کردی اور یہ تمام درخواست گذار موسی ریور زون سے تعلق رکھتے ہیں۔ درخواست گذاروں نے ریوینیو حکام اور حیڈرا کی کارروائیوں کی مخالفت کی۔ عدالت کی جانب سے موسی ریور فرنٹ اور حیڈرا کے حق میں فیصلہ سے تلنگانہ حکومت کو بڑی راحت ملی ہے۔1