موسیٰ ندی کے خاتمہ کیلئے بی جے پی اور کانگریس کی سازش: کے ٹی آر

   

وقار آباد میں ہزاروں ایکر جنگل کا صفایا، بی آر ایس کا دوبارہ برسر اقتدار آنا یقینی، پارٹی کارکنوں سے خطاب
حیدرآباد۔ 28 جون (سیاست نیوز) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ نے الزام عائد کیا کہ کانگریس اور بی جے پی موسیٰ ندی کو ختم کرنے کی مشترکہ طور پر سازش کررہے ہیں تاکہ آنے والی نسلوں کو اس تاریخی ندی سے محروم کیا جائے۔ کے ٹی آر آج وقارآباد اسمبلی حلقہ میں بی آر ایس کے جنرل باڈی اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی موسیٰ ندی کی ترقی کا دعویٰ کررہے ہیں جبکہ ان کی حکومت نے وقار آباد کے گھنے جنگلات میں 1.2 ملین درختوں کو کاٹنے کی اجازت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسیٰ ندی کو اس کے آغاز کے مقام پر ہی ختم کرنے کی سازش ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مقامی افراد، اپوزیشن پارٹیوں اور ماحولیات کے جہد کاروں کی مخالفت کے باوجود ریاستی حکومت نے بحریہ کے راڈار اسٹیشن کے قیام کے لئے 2000 ایکر پر جنگل کی صفائی کی اجازت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقار آباد حیدرآباد میٹرو پولیٹن ریجن کے قریب واقع واحد ہل اسٹیشن ہے اور اس کے جنگلاتی علاقہ کو ختم کرتے ہوئے ماحولیاتی عدم توازن پیدا کیا جائے گا۔ کے ٹی آر نے موسیٰ ندی کے صفائی کے نام پر جنگلات کے خاتمہ کے خلاف حکومت کو انتباہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ بحریہ کے راڈار اسٹیشن کے قیام کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی کے اشارہ پر جنگل کا صفایا کیا جارہا ہے۔ بی آر ایس حکومت نے مرکز کے دباؤ کے باوجود ایک ایکر جنگل بھی صاف کرنے سے انکار کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ریونت ریڈی حکومت نے مرکز میں بڑے بھائی کی درخواست پر ہزاروں ایکر اراضی حوالے کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس حکومت نے رنگاریڈی ضلع میں تین میڈیکل کالجس، نرسنگ کالجس اور گروکل تعلیمی ادارے قائم کئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ رنگاریڈی ضلع کی ترقی کے لئے منصوبہ بند انداز میں اقدامار کئے گئے۔ اسپیکر اسمبلی پرساد کمار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ دستوری عہدہ پر فائز ہوتے ہوئے وہ ریاست کے مالی موقف کے بارے میں گمراہ کن بیانات دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت انتخابی وعدوں کی تکمیل میں ناکام ہوچکی ہے۔ تلنگانہ عوام کو بی آر ایس کے دوبارہ برسر اقتدار آنے کا انتظار ہے اور کے سی آر کے چیف منسٹر بننے کے بعد ریاست میں ترقی اور فلاحی و بہبود کا احیاء عمل میں آئے گا۔ 1؍F