مکہ مسجد میں نشہ میں دھت شر انگیز مصلیٰ امام تک پہونچ گیا

   

سکیوریٹی عملہ کی سنگین لا پرواہی ۔ امام و مصلیان نے شرابی کو پولیس کے حوالے کردیا

حیدرآباد 7 اپریل(سیاست نیوز) تاریخی مکہ مسجد و مصلیان مسجد کی حفاظت بلکہ خطیب و امام کی حفاظت میں بھی سیکوریٹی عملہ بے انتہاء لاپرواہی کا مظاہرہ کر رہا ہے جبکہ مکہ مسجد میں بم دھماکہ کے بعد سے سیکوریٹی کو بہتر بنانے کے نام پر نہ صرف سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے بلکہ بڑی تعداد میں ہوم گارڈس کی تعیناتی کے ذریعہ یہ باور کروانے کی کوشش کی جا تی رہی کہ مکہ مسجد میں صیانتی انتظامات کو بہتر بنایا جا رہا ہے ۔ لیکن گذشتہ شب نماز تہجد کے دوران نشہ میں دھت شرانگیز نہ صرف مسجد میں داخل ہوگیا بلکہ امام کے مصلیٰ پر پہنچ گیا اور صف اول کے سامنے ٹہلنے لگا جس پر خطیب و امام مکہ مسجد مولانا حافظ محمد رضوان قریشی جو تہجد کی امامت کر رہے تھے نے نماز توڑکر اس کو پکڑلیا بعد ازاں مصلیوں نے اسکے نشہ میں ہونے کی تصدیق کرکے اسے باہر نکال دیا اورپولیس کے حوالہ کردیا۔ مکہ مسجد میں بم دھماکہ کے بعد یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں کہ کسی نے مسجد میں داخل ہوکر ہنگامہ کیا ہو سابق میں مسجد میں بعض شر انگیز نوجوانوں نے شرانگیزی کی کوشش کی لیکن محکمہ پولیس سے یہ کہتے ہوئے واقعہ کو نظرانداز کردیا گیا کہ ان کے فون میں متنازعہ نعرہ رنگ ٹون کے طور پر بج رہا تھا اسی طرح اس سے قبل بھی ایک نوجوان مسجد کے صحن میں داخل ہوکر ہنگامہ کر رہا تھا لیکن پولیس نے اس کے دماغی توازن پر سوال اٹھاکر اس کی رہائی کی راہ ہموار کردی تھی ۔ کل دونوں شہروں میںلیلۃ القدر کے موقع پر بیشتر سڑکوں پر سخت صیانتی انتظامات تھے اور پولیس کا بندوبست کرکے یہ تاثر دیا جا رہاتھا کہ پولیس مستعد اور چوکس ہے لیکن تاریخی مکہ مسجد کے مصلیٰ امام کو تک محفوظ نہیں کیا جاسکا اور اس مصلیٰ تک نشہ میں دھت شرابی پہنچ کر ہنگامہ کرتا ہے اور چارمینار اور مکہ مسجد کے اطراف موجود سینکڑوں پولیس اہلکاروں کی توجہ نہیں جاتی بلکہ مسجد سیکوریٹی کیلئے تعینات ہوم گارڈس جو اقلیتی بہبود سے تنخواہ حاصل کر رہے ہیں انہیں بھی یہ احساس نہیں ہوتا کہ کوئی شرانگیز دوران نماز خطیب و امام مکہ مسجد کے مصلیٰ تک پہنچ کر ہنگامہ کرسکتا ہے۔ مکہ مسجد محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت ہے اور اس کے امور کی نگران حکومت ہوتی ہے جو اقلیتی بہبود عہدیدار کے ذریعہ انجام دی جاتی ہے۔ اسپیشل سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود جناب تفسیر اقبال اور چیف منسٹر ریونت ریڈی کے دفتر میں سیکریٹری جناب شاہنواز قاسم دونوں آئی پی ایس ہیں اور اس کے باوجود مکہ مسجد کی سیکوریٹی کا یہ حال ہوسکتا ہے تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ دیگر مساجد کی صورتحال کیا ہوسکتی ہے!3