مکہ مسجد کے قدیم وضوخانہ سے متصل دیوار منہدم

,

   

تاریخی مسجد کی مرمت اور دیکھ بھال سے حکومت کی مجرمانہ غفلت کا ثبوت

حیدرآباد۔22جولائی (سیاست نیوز) حکومت اور محکمہ اقلیتی بہبود کی مکہ مسجد کے متعلق بے اعتنائی و لاپرواہی پر مسلسل توجہ دہانی کے باوجود مسجد کے مرمتی کامو ںاور اسے محفوظ رکھنے کے اقدامات نہ کئے جانے کے نتیجہ میں آج مکہ مسجد کے قدیم وضو خانہ سے متصل دیوار منہدم ہوگئی ۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت مکہ مسجد کی باؤنڈری میں شامل حصہ جو مکہ مسجد دھماکوں کے بعد 2کروڑ 47لاکھ روپئے ادا کرکے حاصل کیا گیا تھا اس میں ایک حصہ منہدم ہوگیاہے۔ دیوار کے انہدام کے ساتھ ہی بڑی آواز آئی جس کے سبب اطراف موجود شہریوں میں کچھ دیر کیلئے سراسمیگی کی لہر دوڑ گئی۔ قدیم وضو خانہ سے متصل دیوار کے منہدم ہونے کی اطلاع کے ساتھ ہی مصلیان مسجد اور اطراف کے تاجرین نے مسجد کے ذمہ دارو ںاور محکمہ اقلیتی بہبود کے حکام پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا کیونکہ نماز عصر کے فوری بعد پیش آئے اس حادثہ کے بعد کافی دیر تک کسی عہدیدارنے جائے واقعہ کا دورہ نہیں کیا اور نہ تفصیلات حاصل کی ۔ اس واقعہ کی تفصیلات کے حصول کیلئے ضلع عہدیدار برائے اقلیتی بہبودسے رابطہ کی د کوششیں کی گئی جو کہ ناکام ثابت ہوئی۔ تاریخی مکہ مسجد کے مرمتی کاموں میں کئی مرتبہ شکایات منظر عام پر آئی ہیں اور مسجد کے اطراف غیر قانونی تعمیرات پر بھی متعدد شکایات کے باوجود کوئی کاروائی نہ کرنے سے مسجد کی دیوار بوسیدہ ہونے کا دعویٰ کیا جا رہاہے ۔ کہا گیا کہ عہدیداروں کی جانب سے ان تعمیرات کو نظرانداز کرنے سے تاریخی مسجد کو نقصان پہنچنے لگا ہے۔ مسجد کے صحت میں آصف جاہی سلاطین کے مقبروں کی چھت کو نقصانات کے علاوہ مسجد کی مرکزی عمارت کی چھت ٹپکنے کی بھی شکایات ہیںلیکن محکمہ اقلیتی بہبود سے ان مسائل کو نظرانداز کیا جا رہاہے ۔ جناب عبدالقدیر صدیقی سپرنٹنڈنٹ مکہ مسجد نے بتایا کہ مسجد کیلئے دو جائیدادوں کو حاصل کیا گیا تھا جن میں ایک جائیداد کا حصہ جو منہدم ہوا اسے قانون حصول حق جائیداد کے تحت سکیوریٹی وجہ کی بنیاد پر حاصل کرلیا گیا جو کہ مقفل رکھا گیا تھا۔ انہو ںنے بتایا کہ چھت اور دیوار کے منہدم ہونے کے سبب داخل ہونے کے راستہ پر بھی ملبہ ہے اسی لئے نقصانات کا تخمینہ لگایا جانا مشکل ہے۔