مکہ معاہدہ اجلاس: بحرانوں کے پر امن حل کی حوصلہ افزائی کا عزم

   

ریاض ۔ یکم ؍ ستمبر (ایجنسیز) مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کی سیاسی اور دفاعی اسٹریٹجک کمیٹی کا اجلاس استنبول میں ہوا۔اجلاس کے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ مشترکہ سرگرمیوں کے ذریعہ دفاعی صنعتوں کے شعبے میں مضبوط تعاون اور مشترکہ پیداوار و ٹیکنالوجی کو فروغ دے کر اپنی دفاعی صلاحیتوں اور مسلح افواج کے باہمی ربط کو مضبوط کریں گے۔دفاعی اسٹریٹجک کمیٹی کے اختتامی اعلامیہ میں تینوں ممالک نے اپنے علاقے میں پائیدار امن و استحکام کے حصول کیلئے مکہ معاہدہ کے فریم ورک کے تحت مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس مقصد کے حصول کیلئے تینوں ممالک اپنی علاقائی ذمہ داریوں سے آگاہی کی بنیاد پر کشیدگی میں کمی اور ضبطِ نفس کی کوششوں کی حمایت جاری رکھیں گے تاکہ بحرانوں کے پرامن حل کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔اسی تناظر میں تینوں ممالک نے مکہ معاہدہ کے تحت اپنے تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے کیلئے مزید اقدامات پر اتفاق کیا کیونکہ انہوں نے مکہ معاہدہ کے فریم ورک کے تحت تینوں ممالک کے کام کو فعال بنانے کیلئے سعودی عرب میں ایک جنرل سیکریٹریٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سکریٹریٹ کی سربراہی پہلے مرحلے میں تین سال کی مدت کیلئے پاکستان کے سکریٹری جنرل کے پاس ہوگی۔مکہ معاہدہ کی سٹریٹجک کمیٹی کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ معاہدہ کی تفصیلات کو ادارہ جاتی شکل دینے سے باہمی یکجہتی کو تقویت ملے گی۔ اجتماعی دفاع اور افادیت یقینی ہوگی۔
عادلانہ، جامع اور پائیدار امن کے حصول کیلئے علاقائی کوششوں اور باہمی سلامتی میں مدد ملے گی۔اعلامیے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مکہ معاہدہ پر سنجیدہ ادارہ جاتی عمل درآمد سے تینوں ممالک علاقائی امن و استحکام میں بنیادی کردار ادا کریں گے۔