مہنگائی اور جی ایس ٹی کے مسئلہ پر لوک سبھا سے ٹی آر ایس کا واک آوٹ

   

وقفہ سوالات میں اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی ، عوامی مسائل نظر انداز کرنے مودی حکومت پر الزام
حیدرآباد ۔ 21 ۔ جولائی (سیاست نیوز) لوک سبھا میں ٹی آر ایس ارکان نے ملک میں بڑھتی مہنگائی اور اشیائے ضروریہ پر جی ایس ٹی کے نفاذ کے عوام پر اثرات کے موضوع پر مباحث کی مانگ کی ۔ حکومت کی جانب سے مباحث سے انکار پر ٹی آر ایس ارکان نے ایوان سے واک آؤٹ کردیا ۔ لوک سبھا میں آج چوتھے دن کارروائی معمول کے مطابق شروع ہوئی اور اپوزیشن کے احتجاج کے دوران اسپیکر لوک سبھا اوم برلا نے وقفہ سوالات کو جاری رکھا۔ اپوزیشن ارکان جی ایس ٹی سے دستبرداری کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کر رہے تھے۔ ارکان کے احتجاج ، شور و غل اور نعرہ بازی کے درمیان وقفہ سوالات جاری رہا۔ وقفہ سوالات کے بعد ٹی آر ایس کے قائد ناما ناگیشور راؤ نے مہنگائی اور جی ایس ٹی کے مسئلہ پر مباحث کی مانگ کی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں عوام کو درپیش مسائل پر فوری مباحث ہونے چاہئے ۔ ٹی آر ایس ارکان نے مباحث کی مانگ کرتے ہوئے کارروائی میں رکاوٹ پیدا کردی ۔ حکومت کی جانب سے مباحث کے مطالبہ کو قبول نہیں کیا گیا اور اسپیکر نے واضح کردیا کہ حکومت مباحث کے لئے تیار نہیں ہے۔ ٹی آر ایس ارکان نے حکومت کے موقف پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کردیا ۔ ان کے علاوہ سماج وادی پارٹی ، ڈی ایم کے ، بی ایس پی اور ترنمول کانگریس ارکان نے بھی واک آؤٹ کردیا۔ بعد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ناما ناگیشور راؤ نے کہا کہ اشیائے ضروریہ پر جی ایس ٹی کے نفاذ سے غریب اور متوسط طبقات بری طرح متاثر ہوں گے ۔ وزیراعظم نریندر مودی نے غذائی اشیاء کو جی ایس ٹی سے استثنیٰ دینے کا تیقن دیا تھا لیکن دودھ اور دیگر اشیاء پر اچانک جی ایس ٹی نافذ کردی گئی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 8 برسوں میں عوام کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے جس کے لئے نریندر مودی حکومت کے فیصلے ذمہ دار ہیں۔ پٹرول ، ڈیزل اور پکوان گیس کی قیمتوں میں اضافہ کے بوجھ سے عوام ابھر نہیں پائے کہ جی ایس ٹی نافذ کرتے ہوئے مزید بوجھ عائد کیا جارہا ہے ۔ر