نئی اسرائیلی حکومت امریکہ کیلئے نیا دردِ سر

,

   

مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی وزیر کی اشتعال انگیز دراندازی سے امریکی سفارت کار ناراض

واشنگٹن : اسرائیل میں نیتن یاہو حکومت بنے ہوائے ابھی محض ایک ہفتے سے چند زائد دن گزرے ہیں، مگر جو بائیڈن انتظامیہ کیلئے درد سر شروع ہو گئی ہے۔ ایک ہفتہ بھی نہیں ہوا تھا کہ انتہا پسند دائیں بازو کی جماعت کے سربراہ اور نیتن یاہو کی کابینہ کے ایک اہم رکن ایتمار بین گویر نے مسجد اقصیٰ میں اشتعال انگیز دراندازی کا ارتکاب کیا جس نے امریکی سفارت کاروں کو ناراض کر دیا۔خیال کیا جاتا ہے کہ یہ آنے والے دنوں میں مزید تنازعات کا سلسلہ شروع کریں گے۔ جن میں یہودی بستیوں کی تعمیر کا معاملہ بھی شامل ہو گا۔ کیونکہ نیتن یاہو کی حکومت میں اس نوع کے کئی اور بھی انتہائی دائیں بازو کے لوگ موجود ہیں۔ادھر نیتن یاہو کی انتظامیہ نے اپنے تازہ ترین اقدام کے طور پر ان فلسطینیوں کو سزا دینے کے اقدامات بھی کیے ہیں جو امریکی انتظامیہ کے ساتھ براہ راست تعلقات بناتے ہیں۔ یقیناً یہ نیتن یاہو کو پسند نہیں۔یاہو کے لیے اس تناظر میں جو بائیڈن انتظامیہ کی طرف سے اس امداد کو بحال کرنے جسے ٹرمپ انتظامیہ نے بند کر دیا تھا اچھا نہیں لگتا۔ مزید یہ کہ جو بائیڈن انتظامیہ نے فلسطینی حکام کو امریکی دوروں کی بھی اجازت دی ہے۔جبکہ تل ابیب میں بننے والی نئی اسرائیلی بھی حکومت اس لیے نا خوشگواری کا پہلو رکھتی ہے کہ امریکی انتظامیہ کی سکیورٹی ٹیم مشرق وسطیٰ سیاپنی توجہ ہٹا کر اپنی توجہ چین اور روس کی طرف مبذول کرنا چاہتی ہے۔اب جبکہ ایوان نمائندگان میں ری پبلکن آئے ہیں ان کی کوشش ہے کہ2024 کے صدارتی انتخاب سے پہلے جو بائیڈن انتظامیہ کو اسرائیل کے لیے غیر دوستانہ ثابت کریں۔یہ چیزیں جوبائیڈن انتظامیہ کے لیے چیلنج بن سکتی ہیں۔ اس لیے جو بائیڈن انتظامیہ جنوری کے وسط تک اپنے قومی سلامتی کے مشیر کو اسرائیل بھیجنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ تاکہ امریکی انتظامیہ اور عرب اتحادیوں کے درمیان تناؤ کو بڑھنے سے روکیں۔امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلوان کے دورہ اسرائیل کے بعد امکانی طور پر امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن بھی جلد اسرائیل جائیں گے۔ لیکن ان کا پیغام کسی بھی طرح کے انتباہ سے بالا تر ہے۔اگرچہ یہ فلسطینیوں کے ساتھ لڑائی کو ہوا نہ دینے سے متعلق پیغام لائیں گے لیکن یہ پیغام کسی بھی انتباہ سے بالاتر ہو گا۔ امریکہ کی طرف سے یہ پیغام اسرائیل کے روس کے ساتھ معاملات میں ہم آہنگی لانے کے مضمرات سے متعلق ہو گیا۔خصوصاً جب روس جنگی حوالے سے ایران پر انحصار کر رہا ہے۔ امریکی خواہش ہے کہ اسرائیل مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی کے توازن کو متاثر نہ ہونے دے۔ تاکہ ایک طرف ایران کو روکا جانا ممکن رہے تو دوسری جانب چین اور روس کا راستہ روکنے پر امریکی توجہ جاری رکھی جا سکے۔جب سے نیتن یاہو نے اپنے انتہائی دائیں بازو کے اتحادیوں کی مدد سے ایک گرما گرم قسم کا الیکشن لڑا ہے۔ امریکی حکام کی کوشش یہ ہے کہ درجہ حرارت کو نیچے رکھا جائے اور تصادم کی پیش گوئیوں کو کمزور ثابت کیا جائے۔اسی پس منظر میں امریکہ کی طرف سے سب سے پہلا یہ بیان آیا کہ ہم چہروں کو دیکھ کر پالیسیوں اور پریکٹس کو دیکھ کر فیصلے کریں گے۔ یہ بیان براہ راست بین گویر اور سمتریش ایسے اتحادیوں کی وجہ سے تھا۔