نائب صدر جمہوریہ عہدہ کیلئے بی جے پی سے اقلیتی امیدوار کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ

   

مختلف شخصیتوں کے ناموں پر غور و خوض ، غیر متوقع امیدوار کو بھی میدان میں اتارنے کا امکان
حیدرآباد۔6جولائی (سیاست نیوز) نائب صدر جمہوریہ کے عہدہ پر بھارتیہ جنتا پارٹی نے اقلیتی طبقہ کے امیدوار کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا جار ہاہے کہ پارٹی کی جانب سے جن ناموں پر غور کیا جا رہاہے ان میں مختار عباس نقوی‘ عارف محمد خان کے علاوہ نجمہ ہپت اللہ اور کیپٹن امریندر سنگھ کا نام بھی شامل ہے۔نائب صدر جمہوریہ کے انتخاب کیلئے اعلامیہ کی اجرائی کے ساتھ ہی عہدہ کے خواہشمند امیدواروں کی سرگرمیوں کے علاوہ پارٹی کی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے ۔ذرائع کے مطابق این ڈی اے کی جانب سے صدر جمہوریہ کے امیدوار کی طرح غیر متوقع امیدوار کو نائب صدرجمہوریہ کے طور پر میدان میں اتارا جا سکتا ہے۔اعلامیہ کے مطابق ضرورت پڑنے پر نائب صدر جمہوریہ کے انتخابات 6اگسٹ کو منعقد ہوں گے اور10 اگسٹ کو موجودہ نائب صدر جمہوریہ ایم وینکیا نائیڈو کی معیاد مکمل ہونے کے بعد نومنتخبہ نائب صدر جمہوریہ 11 اگسٹ کو اپنے عہدہ کی رازداری کا حلف لیں گے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے جن ناموں پر غور کیا جا رہاہے ان میں گورنر کیرالہ عارف محمد خان‘ مرکزی وزیر اقلیتی امور مختار عباس نقوی کے علاوہ اب کیپٹن امریندر سنگھ اور نجمہ ہپت اللہ کا نام بھی لیا جانے لگا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بی جے پی کی مرکزی قیادت کی جانب سے نائب صدر جمہوریہ کے امیدوار کیلئے اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے امیدوار کے متعلق قطعی فیصلہ کیا جاچکا ہے لیکن کس اقلیتی برادری سے نائب صدر جمہوریہ کے امیدوار کا تعلق ہوگا یہ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ بتایاجاتا ہے کہ گورنر کیرالہ عارف محمد خان کا نام اس عہدہ کیلئے سرفہرست ہے لیکن ایک گوشہ کا کہناہے کہ وہ فی الحال گورنر کی ذمہ داری نبھا رہے ہیں تو انہیں ہٹاتے ہوئے نائب صدرجمہوریہ بنائے جانے کے امکان کم ہیں۔ مختار عباس نقوی کو بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے راجیہ سبھا نشست نہ دیئے جانے کے بعد کہا جا رہاہے کہ بی جے پی نے انہیں نائب صدر جمہوریہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے اسی لئے انہیں راجیہ سبھا کیلئے نامزد نہیں کیا گیا ہے اسی لئے نائب صدر جمہوریہ کے امیدوار کے طور پر ان کے امکانات کو کافی مستحکم قرار دیا جا رہاہے۔اسی طرح کیپٹن امریندر سنگھ جو پنجاب انتخابات سے قبل بھارتیہ جنتاپارٹی میں شمولیت اختیا ر کرچکے ہیں انہیں کوئی عہدہ نہیں دیا گیا ہے اسی طرح نجمہ ہپت اللہ بھی عرصہ دراز سے پارٹی میں موجود ہیں اور سابق میں وہ صدرنشین راجیہ سبھا کے عہدہ پر بھی رہ چکی ہیںاسی لئے ان کے امکانات کو بھی خارج نہیں کیا جا رہا ہے لیکن بعض گوشوں کا ماننا ہے کہ صدرجمہوریہ کے عہدہ پر خاتون کی امیدواری کے بعد نائب صدر جمہوریہ کے عہدہ پر بھی خاتون کو امیدوار بنائے جانے کے امکانات موہوم ہیں لیکن بی جے پی کی جانب سے کوئی بھی حیرت انگیز فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔م