ناندیڑ کے سرکاری ہاسپٹل میں 38 افراد کی موت‘ڈاکٹرس کیخلاف مقدمہ

   

جمعرات کو 21 سالہ خاتون اور اس کے نوزائیدہ بچے کی موت پر پھر ہنگامہ‘ بمبئی ہائیکورٹ نے ازخود نوٹس لیا

ناندیڑ(مہاراشٹرا): ناندیڑ پولیس نے جمعرات کو ڈاکٹر شنکر راؤ چوان میڈیکل کالج اور ہاسپٹل کے ڈلیوری ڈپارٹمنٹ کے ڈین شیام راؤ وکوڑے اور دیگر ڈاکٹروں کے خلاف دو دنوں میں مبینہ طور پر دوائیوں کی کمی کی وجہ سے 31 مریضوں کی موت کے بعد مقدمہ درج کیا۔میڈیا کے مطابق ان کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 304 اور 34 کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔مہاراشٹرا کے ناندیڑ کے ڈاکٹر شنکر راؤ چوان میڈیکل کالج اور سرکاری ہاسپٹل میں اموات کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ 72 گھنٹوں میں 38 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ مرنے والوں میں 12 نومولود بھی شامل ہیں۔ 500 بستروں پر مشتمل سرکاری ہاسپٹل میں 1200 مریض داخل ہیں جن میں سے 70 کی حالت تشویشناک ہے۔ ناندیڑ کے میڈیکل کالج ہاسپٹل میں جمعرات کو ایک 21 سالہ خاتون اور اس کے نوزائیدہ بچے کی موت کے معاملے میں ناندیڑ دیہی پولیس اسٹیشن میں ایک کیس درج کیا گیا ہے۔دریں اثنا، ہاسپٹل کی ابتر حالت پر حکومت کے اندر اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے دعویٰ کیا ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ مہاراشٹر اکے طبی تعلیم کے وزیر حسن مشرف نے کل کہا کہ اموات کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور تحقیقات کے لیے ڈاکٹروں کی ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ ہاسپٹل کے ڈین نے ان اموات کی وجہ ادویات اور ہاسپٹل کے عملے کی کمی کو قرار دیا۔اپوزیشن نے ہاسپٹل میں ادویات اور عملے اور آلات کی کمی کا بھی الزام لگایا ہے۔ اپوزیشن کا کہنا تھا کہ ٹرپل انجن حکومت کو ان اموات کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔ مہاراشٹرا حکومت نے تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ کمیٹی نے منگل سے ہی کام شروع کر دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق سرکاری ہاسپٹل کے بانی ایس آر وکوڑے نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں 24 مریضوں کی موت کے معاملے میں ہاتھ اٹھائے ہیں۔ انہوں نے یہ دعویٰ کر کے معاملے سے بچنے کی کوشش کی ہے کہ زیادہ تر مرنے والے باہر کے مریض تھے۔ اس واقعہ سے ناندیڑ سمیت پوری ریاست میں سنسنی پھیل گئی ہے اور اس معاملے کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ بمبئی ہائی کورٹ نے ناندیڑ اور چھترپتی سمبھاج نگر کے سرکاری ہاسپٹلس میں ہونے والی اموات پر از خود نوٹس لیا۔ عدالت نے ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے عدالت نے کہاکہ ہم ہاسپٹلس میں ادویات کی کمی کی وجہ کو قبول نہیں کرتے۔ عدالت نے ریاستی حکومت سے صحت کے بجٹ کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ ہاسپٹل میں 30 ستمبر کی رات سے اموات کا سلسلہ جاری ہے۔70 مریضوں کی حالت اب بھی تشویشناک بتائی جاتی ہے جن میں سے 38 نومولود ہیں۔ اس وقت ہاسپٹل میں 138 نومولود زیر علاج ہیں۔ناندیڑ ہاسپٹلکے نوزائیدہ انتہائی نگہداشت یونٹ میں 65 بچے داخل ہیں جب کہ گنجائش صرف 24 بچوں کی ہے۔ ہاسپٹل میں 500 بستروں کا انتظام ہے لیکن 1200 مریض داخل ہیں۔