نوجوانو‘ ڈٹے رہو‘ مجھے آپ پر فخر ہے ‘ ہم آپ کے ساتھ ہیں : راہول

,

   

نریندر مودی کا 15 سال سے جاری سیاسی ڈرامہ ختم ہونے والا ہے ۔ سوشیل میڈیا پوسٹ
نئی دہلی 10 اکٹوبر ( ایجنسیز ) قائد اپوزیشن راہول گاندھی نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت چاہے تو سبھی کو گرفتار کرلے ۔ تمام قائدین کو گرفتار کیا جائے ۔ تمام نوجوانوں کو گرفتار کرلیا جائے ۔ سبھی کی گرفتاری عمل میں لائی جائے ۔ ہم آپک ے اطراف ہی ہیں اور ہم پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔ راہول گاندھی نے ‘ جو چینائی کے دورہ پر ہیں ‘ سوشیل میڈیا پرا یک پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’’ میرے الفاظ یاد رکھ لیں ‘ ہم کو جو ضرورت تھی وہ اطلاع مل گئی ہے ۔ ہندوستان کے نوجوانو ‘ مجھے آپ پر فخر ہے ۔ احتجاج کا سلسلہ جاری رکھئے ۔ ہم آپ کے ساتھ کھرے ہیں۔ راہول گاندھی نے ایک اور پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اس ملک کی جمہوریت کو تباہ کر رہے ہیں اور ان کا 15 سال سے جاری سیاسی ڈرامہ اب ختم ہونے جا رہا ہے ۔ راہول گاندھی نے جاریہ ہفتے چار دن تک احتجاج کی قیادت کی تھی ۔ جمعہ کو انڈیا اتحاد کی جماعتوں نے ووٹ چوری کے مسئلہ پر صدرجمہوریہ ہند شریمتی دروپدی مرمو کو ایک یادداشت بھی پیش کی تھی ۔ انڈیا اتحاد کی جماعتوں نے 12 اکٹوبر کو دہلی میں چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ایک بڑے احتجاج کا اعلان بھی کیا ہے اور کہا کہ اسی دن چیف جسٹس آف انڈیا سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں بھی یادداشت پیش کی جائے گی اور مداخلت کی اپیل کی جائے گی ۔

راہول گاندھی کی چیف منسٹر وجے سے ملاقات، سیاسی صورت حال پر غور
چینائی 9 اکتوبر (یو این آئی) برسر اقتدار (ٹی وی کے ) کو باضابطہ طور پر انڈیا اتحاد میں شامل کرنے اور ایس آئی آر پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر 15 اکتوبر کو احتجاج میں شرکت کے فیصلہ کے بعد، قائد اپوزیشن راہول گاندھی نے ٹاملناڈو کے چیف منسٹر وجے سے لنچ پر ملاقات کی۔ اس دوران سیاسی صورت حال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ راہول گاندھی مرکزی حکومت اور چیف الیکشن کمشنر کے خلاف مسلسل آواز اٹھا رہے ہیں۔ وہ طلبہ سے رابطے کی مہم کے تحت ایک روزہ دورہ پر چینائی پہنچے تھے ، جہاں انہیں نے جین زی اور طلبہ سے نیٹ ، روزگار کے مواقع اور دیگر اہم مسائل پر تبادلۂ خیال کرنا تھا۔یہ ملاقات سیاسی اعتبار سے اہم سمجھی جا رہی ہے ، کیونکہ ایک جانب وجے کی قیادت والی ٹی وی کے نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اسمبلی کے دو ضمنی انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے اپنا پہلا انتخابی امتحان پاس کیا ہے