نیوزی لینڈ کے خلاف آج پہلا ٹی 20

   


ویلنگٹن ۔ ہندوستان جمعہ کو یہاں شروع ہونے والی نیوزی لینڈ کے خلاف تین میچوں کی ٹی20 سیریز میں نوجوان اور نڈرگروپ کے ساتھ اپنے قدیم کھیل کے انداز کو ختم کرنے کا ارادہ کرے گا۔ گزشتہ سال متحدہ عرب امارات میں ورلڈ کپ کی شکست کے بعد ہندوستان نے جارحانہ بیٹنگ کا انداز اپنایا لیکن جب اگلا ایڈیشن دستک دے رہا تھا، تو ٹاپ آرڈر مخالف بولروں پر حملہ کرنے میں ناکام پایا گیا۔ ہندوستان نے اپنے وسائل کو بہتر استعمال کرنے میں ناکام رہا اورنو سالوں میں اس کی پہلی آئی سی سی ٹرافی کا انتظار طویل ہوتا رہا۔اگلے ٹی20 عالمی ایونٹ میں دو سال باقی ہیں، ہندوستان کے پاس انگلینڈ کی طرف سے دکھائے جانے والے انداز کے لیے کھلاڑیوں کی شناخت اور تیار کرنے کے لیے کافی وقت ہے۔ ہاردک پانڈیا جو اگلے ٹی20 ورلڈ کپ میں ٹیم کی قیادت کر سکتے ہیں وہ نیوزی لینڈ کے خلاف کل شروع ہونے والی سیریز میں روہت شرما کی غیر موجودگی میں ٹیم کی قیادت کریں گے۔ کارگزار ہیڈ کوچ وی وی ایس لکشمن نے اشارہ دیا ہے کہ انتظامیہ جدید کھیل کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے صرف ٹی20 ماہرکھلاڑیوں کو شامل کرنے کا خواہشمند ہے۔ اگرچہ اگلے سال ورلڈ کپ سے پہلے ونڈے ورلڈ کپ پر توجہ مرکوز کر دی گئی ہے، لیکن ہندوستان یہاں زیادہ تر ٹی20 گیمز اور 50 اوور کے میگا ایونٹ سے پہلے مزید مقابلے کھیلنا چاہے گا۔ اگرچہ ویراٹ کوہلی شاندار فام میں تھے لیکن پاور پلے میں روہت اور کے ایل راہول کی جانب سے کی جانے والی بیٹنگ پر شدید تنقید کی گئی۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ تینوں کھلاڑی 2024 کے ایڈیشن تک مختصر ترین فارمیٹ نہیں کھیلیں گی، اس لیے ہندوستان کو مستقبل کے لیے منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے۔ بمشکل ایک ہفتہ بعد ہندوستانی اور نیوزی لینڈ کے کچھ کھلاڑی جوٹی20 ورلڈ کپ کا حصہ تھے ایک دو طرفہ سیریز کے لیے میدان میں واپس آئیں گے پہلے تین میچوں کی ٹی20 سیریز میں اور پھر ونڈے سیریز ہوگی۔ ایشان کشن اور شبمن گل یہاں پہلے ٹی20 کے ممکنہ اوپنر ہوں گے لیکن انتظامیہ رشبھ پنت کو ٹاپ آرڈر میں ایک اور موقع بھی دے سکتی ہے۔ اگرچہ ہندوستان نیوزی لینڈ میں ایک دوسرے نمبرکی ٹیم کو میدان میں اتار رہا ہے لیکن اسکواڈ کے ارکان کے پاس اب بھی کافی حد تک بین الاقوامی تجربہ ہے۔ چار سال قبل نیوزی لینڈ میں ہوئے انڈر19 ورلڈکپ میں اپنے کارناموں سے شہرت پانے والے اعلیٰ درجہ کے گیل یہاں سے اپنے ٹی20 ڈیبیو کے لیے پر امید ہوں گے۔ کشن کو پچھلے 12 مہینوں میں پہلے ہی باقاعدگی سے ٹاپ پر آزمایا جا چکا ہے اور یہ سیریز انہیں ٹیم کے پسندیدہ اوپنر کے لیے مضبوط دعویدار بنانے کا ایک اچھا موقع فراہم کرتی ہے۔ سنجو سیمسن کو ایک اور موقع دیا گیا ہے اور وہ اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے بے چین ہوں گے۔ یہ سیریز زخموں کے مسائل کے بعد واشنگٹن سندر کی واپسی کو بھی نمایاں کرتی ہے اور ان سے توقع کی جائے گی کہ وہ بیٹ اورگیند دونوں کے ساتھ بہتر مظاہرہ کریں گے۔ ہندوستان کی ٹی20 پریشانیوں کی ایک بڑی وجہ اسپنرز کے ذریعے درمیانی اوورز میں وکٹ لینے میں ناکامی ہے۔ نیوزی لینڈ کے مقابلے کلدیپ یادیو اور یوزویندر چہل کی کلائی اسپن جوڑی کو دوبارہ جوڑ سکتے ہیں، جن کے ورلڈ کپ الیون سے اخراج نے بہت سے لوگوں کو حیران کردیا۔ ہندوستان کو جسپریت بمراہ کے ساتھ ایک فاسٹ بولرکی بھی ضرورت ہے اور اس محاذ پر عمران ملک ان کے بہترین ساتھی بن سکتے ہیں۔ آئرلینڈ اور انگلینڈ کے اپنے پہلے دورے پر انہیں زیادہ موقع نہیں ملا۔امید کی جارہی ہے اس سیریز میں انہیں پورا موقع ملے گا ۔