نیٹ پیپر لیک ‘ مرکز کی تجاویز

   

ایک دل ہے اور طوفانِ حوادث اے جگر
ایک شیشہ ہے کہ ہر پتھر سے ٹکراتا ہوں میں
نیٹ امتحانی پرچوں کے افشاء سے نمٹنے کیلئے مرکز نے کئی تجاویز کو منظوری دی ہے اور اس سلسلہ میں قانونی اقدامات کرے کا بھی ارادہ ظاہر کیا گیا ہے ۔ وزیر اعظم نریندرمودی کی مداخلت کے بعد یہ تجاویز سامنے آئی ہیں۔ وزیر اعظم نے نیٹ پیپر لیک اور طلباء کے احتجاج پر گدشتہ ایک دن میں دو مرتبہ ردعمل ظاہر کیا تھا ۔ پہلے تو انہوں نے طلباء کی اہمیت پر اظہار خیال کرتے ہوئے نیٹ پیپر لیک سے نمٹنے کیلئے سخت اقدامات کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا اور پھر کل نصف شب کو ہی انہوں نے ایک ویڈیو شئیر کرتے ہوئے واضـح کیا تھا کہ حکومت کابینہ کے اجلاس میں نیٹ پیپر لیک سے نمٹنے کئی سخت گیر اقدامات کو یقینی بنانے پر غور کرے گی ۔ آج مرکزی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں تجویز کیا گیا کہ اگر کوئی امتحانی پرچہ لیک ہوتا ہے تو اندرون تین ماہ اس پر کارروائی کی جائے گی ۔ اس کے علاوہ امتحانی پرچوں کے افشاء میں ملوث افراد کو عدالتوں سے دس برس تک سزائیں دلائی جائیں گی اور ان پر 10 کروڑ روپئے جرمانہ عائد کیا جائے گا ۔ یہ در اصل طلباء کی جانب سے پرچوں کے افشاء کے خلاف شروع کئے گئے احتجاج کا نتیجہ ہے کہ حکومت کو اس معاملے میں حرکت میں آنا پڑا ہے اور خود وزیر اعظم نے اس پر دو مرتبہ ردعمل ظاہر کیا ہے ۔ اس سے قبل حکومت اس مسئلہ پر خواب غفلت کا شکار تھی ۔ مسلسل امتحانی پرچوں کا افشاء ہوا تھا اور کئی امتحان منسوخ کرنے پڑے تھے جس کی وجہ سے طلباء کو مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا ۔ اس کے باوجود حکومت نے سب کچھ ٹھیک ہے کا نعرہ دیتے ہوئے خاموشی اختیار کی ہوئی تھی اور کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی ۔ محض کچھ اقدامات کئے جا رہے تھے اور پھر پرچوں کے افشاء کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا ۔ جو اقدامات حکومت اب کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے وہ اسے بہت پہلے ہی سے شروع کردینے چاہئے تھے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہئے تھا کہ طلباء کے مستقبل کے ساتھ کسی طرح کا کھلواڑ ہونے نہ پائے اور ایسا کرنے والوںکو کیفر کردار تک پہونچایا جائے ۔
اب بھی حکومت نے جو منصوبہ بنایا ہے وہ طلباء کیلئے کافی نہیں کہا جاسکتا کیونکہ اس میں بھی امتحانی پرچوں کے افشاء سے متاثر ہونے والے طلباء کیلئے راحت کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ ضرور کچھ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی گنجائش رکھی گئی ہے لیکن طلباء کو راحت پہونچانے کیلئے کوئی فیصلہ اس میںشامل نہیں ہے ۔ جو کام اب کئے جا رہے ہیں وہ ابتداء سے کئے جانے چاہئے تھے ۔ جو لوگ پیپر لیک کیلئے ذمہ دار ہوتے ہیں ان کے خلاف کارروائی تو فطری بات ہے تاہم احساس جوابدہی پیدا کرنے کیلئے ذمہ دار محکمہ جات کے اعلی عہدیداروں کے خلاف بھی کوئی گنجائش فراہم کی جانی چاہئے تاکہ وہ اپنے ما تحت عملہ اور دوسرے افراد کے خلاف کارروائی کریں اور ان میں بھی اپنی ملازمتوں اور ذمہ داریوں کے تعلق سے احساس پیدا ہوسکے اور وہ ماتحت عملہ پر اس طرح سے نظر رکھ سکیں جتنی ضرورت ہے ۔ طلباء کے مستقبل اور امتحانی پرچوں کے افشاء کا جو مسئلہ ہے وہ محض ایک وقت کی کارروائی یا توجہ ہٹانے کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ طلباء کے ساتھ ساتھ ملک کے مستقبل سے بھی جڑا مسئلہ ہے ۔ نظام تعلیم میں جو خامیاں پائی جاتی ان کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جانا چاہئے ۔ ان کو دور کرنے کیلئے سیاسی وابستگی کا خیال کئے بغیر ماہرین تعلیم سے رائے حاصل کی جانی چاہئے ۔ خود طلباء برادری کو اعتماد میں لیا جانا چاہئے تاکہ مستقبل میں اس صورتحال کا موثر ڈھنگ سے تدارک ممکن ہوسکے ۔
فی الحال جو مسئلہ چل رہا ہے اس پر بھی حکومت کا موقف تاحال واضح نہیں ہوسکا ہے ۔ طلباء کا جہاں تک تعلق ہے تو وہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفی سے کم کسی بات کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں اور حکومت کو بھی اس معاملے میں ضد اور ہٹ دھرمی کا موقف اختیار کئے بغیر کام کرنا چاہئے ۔ ایک وزیر کا استعفی حکومت کی ساکھ پر کوئی اثر نہیں ڈالے گا ۔ یہ ضرور ہے کہ طلباء کی جیت ہوگی اور طلباء کی جیت پر حکومت کو اپنی شکست کا احساس نہیں کرنا چاہئے کیونکہ طلباء ہی ہمارا اثاثہ ہیں۔