قائد اپوزیشن راہول گاندھی کا الزام ۔ مودی اور امیت شاہ ووٹ چوری کے اصل سازشی ہیں۔ اقتدار ملنے پر تحقیقات کروانے کا اعلان
چیف الیکشن کمشنر سے فوری مستعفی ہوجانے کا مطالبہ ۔ بی جے پی کے بنائے گئے تمام قوانین ’ غیر قانونی ‘ہوگئے ۔ دہلی میں پریس کانفرنس سے خطاب
نئی دہلی 24 ستمبر ( ایجنسیز ) الیکشن کمیشن میں یکطرفہ فیصلے اور دو الیکشن کمشنران کے اعتراضات کو خاطر میں نہ لانے کی رپورٹس پر قائد اپوزیشن راہول گاندھی نے بی جے پی اور الیکشن کمیشن پر شدید تنقید کی ہے اور کہا کہ ملک میں ووٹوں کی چوری کی گئی ہے اور اس کے باعث ارکان پارلیمنٹ نے جو قوانین بنائے ہیں وہ غیر قانونی ہوگئے ہیں۔ دارالحکومت دہلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راہول گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ’ غدار ‘ قرار دیا اور ان سے استعفی کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ملک میں جمہوریت کو تباہ کیا جا رہا ہے جس پر کانگریس پارٹی خاموش نہیں رہے گی ۔ راہول گاندھی نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ بھی ووٹ چوری کے اصل سازشی ہیں اور اقتدار ملنے پر ان کے خلاف بھی تحقیقات کروائی جائیں گی ۔ راہول گاندھی نے کہا کہ مودی و امیت شاہ نے ملک کی جمہوریت کو تباہ کردیا ہے اس لئے وہ ’ دیش دروہی ‘ ہیں ۔ امیت شاہ اور نریندرمودی کے ان بیانات پر کہ بی جے پی ملک میں 30 سال تک اقتدار پر رہے گی اور این ڈی اے کو 2024 میں 400 سے زائد نشستیں ملنے کی جو بات کی گئی تھی اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کوئی بھی سیاست دان بلا وجہ اس طرح کے ضرورت سے زیادہ اعتماد کا اظہار نہیں کرسکتا کیونکہ ملک میں حکومت کے خلاف لہر کی بھی ایک بنیادی طاقت ہوتی ہے ۔ راہول گاندھی نے کہا کہ 1971 میں اندرا گاندھی بنگلہ دیش جنگ جیتنے کے بعد اپنی مقبولیت کے عروج پر تھیں۔ اس کے بعد انہیں حکومت مخالف لہر کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اندرون ایک یا دو سال داخلی دباؤ بھی بڑھ گیا تھا ۔ یہی کچھ صورتحال یکے بعد دیگرے لیڈرس کیلئے بھی درپیش رہی تھی ۔ چاہے وہ کانگریس ہو یا پھر علاقائی جماعتوں کے قائدین ہو۔ تاہم کسی نہ کسی وجہ سے یہ صورتحال وزیر اعظم مودی ‘ وزیر داخلہ امیت شاہ اور بی جے پی کیلئے پیدا نہیں ہوئی ۔ راہول گاندھی نے کہا کہ ہریانہ میں گذشتہ 50 سال سے اقتدار ایک سے دوسری پارٹی کیلئے بدلتا رہا لیکن اچانک ہی مخالف حکومت لہر غائب ہوگئی ۔ مہاراشٹرا میں نتائج بدلتے رہے ہیں لیکن اچانک ہی یہ صورتحال ختم ہوگئی ۔ اترپردیش میں صورتحال کبھی سماجوادی پارٹی تو کبھی بہوجن سماج پارٹی کے حق میں بدلتی رہی تاہم وہاں بھی یہ لہر غائب ہوگئی ۔ اس سے ہمارے لئے ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے ۔ہم یہ نہیں سمجھ سکتے کہ مخالف حکومت لہر کس طرح سے اچانک غائب ہوجاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے سامنے یہ سوال کچھ وقت سے زیر غور ضرور تھا ۔ اس کا جواب ووٹ چوری کے ذریعہ سامنے آیا تھا ۔ قائد اپوزیشن نے کہا کہ ووٹ کا تحفظ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے اور ووٹ سے ہمارے دستور کو تقویت ملتی ہے ۔ دستور سے قوانین بنائے جاتے ہیں اور قوانین سے ادارے بنتے ہیں۔ یہ ایک چین ہے اور یہ چین عصری ہندوستان کی تعبیر پیش کرتی ہے ۔ اب یہ چین موجود نہیں ہے اور یہ کام نہیں کر رہی ہے ۔ ہمارے دستور کو تباہ کردیا گیا ہے ۔ ہمارے قوانین غیر قانونی ہوگئے ہیں اور اگر قوانین ہی غیر قانونی ہیں تو ادارے بے معنی ہوکر رہ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ چوری سے قانون چوری پیش آئی اور قانون چوری سے سنستھا ( اداروں کی ) چوری کی گئی ہے ۔