وقف بورڈ کے بعد اردو اکیڈیمی کی باری ! قیمتی اراضی کو خانگی کمپنی کے حوالے کرنے احکام جاری

   

صدر نشین اکیڈیمی لا علم ۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کی سطح پر مراسلت ۔ محض چند دن میں فائیل کی گشت اور احکام کی اجرائی سے شبہات
محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد26جولائی :اوقافی جائیداد کی تباہی کی بعد اب حکومت کی نظر بد اردو اکیڈیمی کی جائیداد پر پڑنے لگی ہیں اور متحدہ آندھرا پردیش میں اردو اکیڈیمی کو دی گئی اراضی حکومت تلنگانہ نے خانگی کمپنی کے حوالہ کرنے سرکاری احکام جاری کردیئے ہیں ۔ صدرنشین اردو اکیڈیمی جناب طاہر بن حمدان محکمہ اقلیتی بہبود سے جاری جی ۔او سے لاعلم ہیں۔ محکمہ اقلیتی بہبود آخر کون چلا رہاہے کیونکہ محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت اداروں کے اثاثہ جات کی تباہی میں محکمہ کے فیصلوں کے باوجود وزیر اقلیتی بہبودکی خاموشی ناقابل فہم ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت اردو اکیڈیمی کی انتہائی قیمتی ملکیت جس کی بازار میں قیمت زائد از 100 کروڑ ہے اس اراضی کو کسی خانگی کمپنی کے حوالہ کرنے محکمہ اقلیتی بہبود نے 18 جولائی کو جی او نمبر 20جاری کردیا ہے ۔ جی او کے مطابق محکمہ اقلیتی بہبود نے اردو اکیڈیمی کی ملکیت والی اس قیمتی اراضی کو 30 سال کیلئے لیز پر دینے کافیصلہ کیا ہے لیکن اس اراضی کی ملکیت اردو اکیڈیمی کے پاس ہی رہے گی۔ جی او 20 کی اجرائی اور اراضی کی خانگی کمپنی کو حوالگی کے فیصلہ سے صدرنشین اردو اکیڈیمی جناب طاہر بن حمدان سے دریافت کرنے پر انہوں نے بتایا کہ وہ اس لاعلم ہیں ۔ محکمہ اقلیتی بہبود نے متحدہ آندھرا پردیش میں چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو دور میں اردو اکیڈیمی کو حوالہ کردہ 1ایکڑ 4گنٹے یعنی 5220 مربع گز اراضی جو شیخ پیٹ میں ہمہ منزلہ عمارتوں کے درمیان ہے وہ حوالہ کردی ہے۔ بتایاجاتاہے کہ N.N infra & Construction نامی غیر معروف کمپنی کو یہ اراضی 30 سال کی لیز پر دی گئی ہے اور اس کیلئے کسی بھی قانونی امور بالخصوص لیز یا کرایہ پر دینے و اراضی کی ترقی کیلئے حوالہ کرنے کے اصولوں کا پاس و لحاظ نہیں رکھا گیا بلکہ خاموشی سے معاملت کرکے زائد از2لاکھ روپئے فی گز قیمت والی اس 5220 مربع گز اراضی کو خانگی کمپنی کے حوالہ کردیاگیا ہے۔ جی او میں اس اراضی کی حوالگی کے سلسلہ میں جن مکتوبات کا حوالہ دیا گیا ہے ان میں ڈائرکٹر سیکریٹری اردو اکیڈیمی سے روانہ کئے گئے 297/TGUA/C3/2026 کا تذکرہ ہے جو کہ 23 جون کیا گیا تھا اس کے علاوہ ڈائرکٹوریٹ کمشنر سے روانہ مکتوب نمبر 166/F/226 کا تذکرہ موجود ہے جو کہ 13 جولائی روانہ کیا گیا تھا اور محکمہ اقلیتی بہبود نے ان دونوں مکتوبات جبری طور پر حاصل کرکے اراضی کی حوالگی کیلئے 16 جولائی 2026کو جی او ایم ایس نمبر 20جاری کردیا اور اس اراضی کی حوالگی میں کوئی قانونی رائے حاصل نہیں کی گئی اور نہ محکمہ اقلیتی بہبود یا وزیر اقلیتی بہبود سے اڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل کے دفتر کو رائے کیلئے یہ فائل روانہ کی گئی ۔ حکومت و محکمہ اقلیتی بہبود سے اب تک وقف بورڈ کی جائیدادوں کو تباہ کیا جاتا رہا اور امت مسلمہ کی موقوفہ جائیدادوں کی تباہی پر خاموشی کے بعد اب ’اردو اکیڈیمی ‘ کی ملکیت واحد اراضی کو 30 سال کیلئے حواریوں کو دینے کے احکام جاری کردیئے گئے ۔ اردو داں طبقہ کی ترقی و خوشحالی و اردو زبان کی ترقی و ترویج کیلئے تلگو دیشم دور میں اردو اکیڈیمی کو دی گئی اس اراضی کو حوالہ کرنے احکام کی اجرائی نے اردو والوں میں برہمی پیدا کردی ہے ۔ اردو گھر و شادی خانہ اسکیم کے تحت الاٹ کردہ اس اراضی کو جناب عمر جلیل سابق آئی اے ایس نے بی آر ایس دور میں ترقی دینے کوشش کی تھی لیکن ناگزیر وجوہات کی بناء پر کاموں کو شروع نہیں کیا جاسکا اور اب یہ اراضی جو اردو اکیڈیمی کے قبضہ میں ہے اسے خاموشی سے اندرون چند یوم سرکاری فائلوں کے سرکیولیشن کو یقینی بناکر احکامات کی اجرائی سے اندازہ ہوتا ہے کہ بدنیتی سے یہ اراضی حوالہ کرنے احکام جاری کئے گئے ۔ ذرائع کے مطابق B.O.T پر دی گئی اس حوالگی میں کئی معاملتیں ہوئی ہیں جن میں کئی سرکردہ شخصیات اور عہدیدار ملوث ہیں اور حاصل کرنے والوں کے اپوزیشن بی آر ایس قائدین سے بھی بہتر روابط و معاملتوں کے سبب اپوزیشن نے بھی اس پر خاموشی کا فیصلہ کیا ہے۔قوانین کے مطابق کسی بھی سرکاری ادارہ یا سرکاری اراضی کو تعمیر یا ترقی کیلئے کسی خانگی ادارہ یا کمپنی کے حوالہ کرنے سے قبل اخبارات میں اشتہارات شائع کرواتے ہوئے ٹنڈر طلب کئے جانے چاہئے لیکن اردواکیڈیمی‘ کی اس اراضی کے سلسلہ میں ٹنڈر کا عمل بھی انجام نہیں دیا گیا اور محکمہ اقلیتی بہبودمیں مہمانوں کی تواضع کرنے کا ٹھیکہ رکھنے والوں اور موسم حج کے دوران مختلف امور کے ٹنڈر لینے والوں کو یہ اراضی حوالہ کرنے کے اقدامات کئے گئے ہیں جو کہ غیر قانونی ہیں۔