وقف مرممہ قوانین پر عمل آوری ، شمالی ہند کی ریاستوں میں مساجد و مدارس دینیہ نشانہ

   

دو تلگو ریاستوں کے مساجد و مدرسہ کے ذمہ داران فوری توجہ دیں ، تلنگانہ وقف بورڈ خصوصی سیل قائم کرے
حیدرآباد۔9۔ مئی ۔ (سیاست نیوز) مرکزی حکومت کی جانب سے وقف مرممہ قوانین پر عمل آوری کے فیصلہ کے بعد موقوفہ اراضیات کو نشانہ بنایا جانے لگا ہے اورشمالی ہند کی ریاستو ںمیں مساجد و مدارس دینیہ کو غیر مجاز قرار دیتے ہوئے انہیں منہدم کرنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ شمالی ہند میں پیدا ہونے والے حالات کے پیش نظر دونوں تلگو ریاستوں میں موجود مساجد و مدارس دینیہ کے ذمہ داروں کو بھی اپنی مساجد و مدارس کو باقاعدہ بنانے کے اقدامات پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے اور درکار دستاویزات کی تیاری میں کوتاہی کرنے کے بجائے وقف بورڈ سے مدد حاصل کرتے ہوئے مساجد و مدارس دینیہ کو باقاعدہ بنانے کے لئے اقدامات پر توجہ دینے کے اقدامات کا آغاز کرنا چاہئے کیونکہ ملک بھر میں موجود متعصب ذہنیت کے افراد و تنظیموں کی جانب سے اس طرح کی کاروائیوں کے لئے عدالت سے رجوع ہوتے ہوئے احکامات حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اسی لئے مساجد کے انتظامیہ اور مدارس دینیہ کے انتظامیہ کو متحرک ہوتے ہوئے جائیدادوں کے رجسٹریشن اور تعمیراتی اجازت ناموں کے حصول کے سلسلہ میں فوری طور پر اقدامات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر دستاویزات نہیں ہوں گے تو ایسی صورت میں فرقہ پرستوں کو اس بات کا موقع مل جائے گا اور وہ مساجد و مدارس دینیہ کو نشانہ بنانے کی کوششوں کا آغاز کریں گے۔ ملک میں پیدا شدہ حالات کے دوران حفظ ماتقدم کے تحت قوانین کے مطابق رجسٹریشن اور تعمیری اجازت نامو ںکے حصول کے علاوہ موجودہ مساجد و مدارس دینیہ کی عمارتوں کو باقاعدہ بنانے کے اقدامات کئے جانے چاہئے ۔ ملک بھر میں وقف مرممہ قوانین کے خلاف جاری احتجاج کے دوران عوام میں اس بات کا بھی شعور لازمی اجاگر کئے جانے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے علاقہ کی مساجد و مدارس دینیہ کے رجسٹریشن و انہیں باقاعدہ بنانے کے اقدامات کریں۔ تلنگانہ میں ریاستی وقف بورڈ کو چاہئے کہ وہ مدارس دینیہ اور مساجد کو باقاعدہ بنانے کے سلسلہ میں انتظامیہ کی مدد کے لئے فوری طور پر علحدہ سیل قائم کرتے ہوئے ان کی مدد کرے تاکہ مساجد و مدارس دینیہ کے ذمہ دار اس سیل سے رجوع ہوتے ہوئے ان اداروں کے قانونی دستاویزات کے حصول کو یقینی بناسکیں۔ شمالی ہند میں عدالتوں سے رجوع ہوتے ہوئے مذہبی مقامات بالخصوص مساجد اور مدارس دینیہ کے متعلق جو احکامات حاصل کئے جا رہے ہیں ان کو بنیاد بناتے ہوئے انہیں منہدم کیا جا رہاہے ۔ جنوبی ہند میں فرقہ پرستوں کو ابھی اس قدر طاقت حاصل نہیں ہے کہ وہ تلنگانہ ‘ آندھراپردیش‘ کرناٹک ‘ کیرالہ یا تمل ناڈو میں اس طرح کی کاروائیوں کے لئے عدالتوں سے رجوع ہوں لیکن اگر ذمہ داران مساجد و مدارس دینیہ کی جانب سے قبل از وقت چوکسی اختیار کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں کسی بھی طرح کے منفی حالات سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔3