جسٹس مارکنڈے کٹجو
حالیہ عرصہ کے دوران ملک بھر میں یہاں تک کہ پارلیمنٹ میں بھی نعرہ ’’وندے ماترم ‘‘ پر ایک لمبی بحث چھڑگئی، پارلیمنٹ میں بھی اس نعرہ کو لیکر گرما گرم بحث ہوئی ۔ اس طرح وندے ماترم فی الوقت گرما گرم بحث کاموضوع بن گیا ہے جس پر ایوان کے اندر اور باہر دونوں مقامات پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے ۔ حالیہ کئی اجلاس میں اس نعرہ ؍ گیت کے استعمال نے بنیادی نوعیت کے کئی سوالات اُٹھائے ۔ صرف حب الوطنی کے حوالے سے نہیں بلکہ تاریخ شمولیت اور قومی علامتوں کی نظریاتی بنیادوں کے بارے میں بھی ۔
جب کسی ادبی تخلیق یا نعرے کو پارلیمنٹ میں بار بار قوم پرستی کی آزمائش قرار دے کر پیش کیا جائے تو ضروری ہوجاتا ہے کہ اس کی تاریخی اور نظریاتی بنیادوں کاجائزہ لیا جائے بجائے اس کے کہ اسے تنقید اور جانچ پڑتال سے بالاتر سمجھا جائے ۔ اس تناظر میں میرے معزز و قابل دوست کپل سبل ایم پی سابق مرکزی وزیر و سینئر ایڈوکیٹ سپریم کورٹ نے بھی حال ہی میں ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا میں ایک شاندار تقریر کی اور اس مسئلہ کے بارے میں کھل کر تفصیلات بیان کی ۔ اس لئے میں نے وندے ماترم کے پیچھے کارفرما نظریہ و متن کا جائزہ لے کر اپنا خیال ظاہر کرنا مناسب سمجھا ۔ خاص طورپر اس کے ذریعہ یعنی ناول آنند مٹھ کے بارے میں تاکہ تاریخی پس منظر کے ذریعہ اس تاریخ کو سمجھا جاسکے ۔
پارلیمنٹ میں وندے ماترم کی توہین کو قابل سزاء جرم قرار دینے والے بل کی منظوری کے بعد خاص طورپر لوگ اس بات کو لیکر حیران ہیں کہ آخر کس لئے مودی حکومت نے یہ بل منظور کیا ۔ آپ کو بتادیں کہ یہ ایک گیت ہے جس کی ابتداء بنکم چندرپادھیائے کے ناول آنند مٹھ میں ہوتی تھی اور اس کے پس منظر کو سمجھنا اس گیت کو سمجھنے کیلئے بہت اہم اور بہت ضروری ہے ۔
پچھلے جمعرات کو پارلیمنٹ نے ایک ایسا بل منظور کیا جس کے تحت وندے ماترم کی توہین کومجرمانہ فعل قرار دیا گیا ہے ۔ اس بل میں وندے ماترم کو قومی گیت کے مساوی درجہ دیا گیا ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ سنسکرت کے الفاظ ’’وندے ماترم ‘‘ کے لفظی معنی ہے ۔ ’’میں ماں کی عبادت کرتا ہوں ‘‘ یہاں ماں سے مراد مادر وطن یعنی ہندوستان ہے ۔ بہت سے مسلمان اس گیت کو گانے پر اعتراض کرتے ہیں ۔ اُن کا دعویٰ ہے کہ اسلام میں عبادت صرف اﷲ تعالیٰ کی ہی کی جاسکتی ہے اور وہی قابل عبادت ہے۔ مسلمانوں کے خیال میں وہ اپنے مادرِ وطن ہندوستان سے محبت کرتے ہیں لیکن عبادت صرف اﷲ تعالیٰ کی ہی کرسکتے ہیں کسی اور کی عبادت کا تصور بھی نہیں کرسکتے لیکن اس کے علاوہ ہمیں اس گیت کو اس پس منظر کو ملحوظ رکھتے ہوئے دیکھنا چاہئے جس میں یہ وجود میں آیا یعنی ناول آنند مٹھ کے تناظر میں تاکہ معاملہ کو صحیح طورپر سمجھا جاسکے ۔
آنند مٹھ کا تاریخی پس منظر : یہ گیت اصل میں بنگالی مصنف بنکم چندر چٹوپادھیائے کی ناول آنند مٹھ میں شامل کیا گیا تھا ۔ بنکم چندر کو ایک عظیم بنگالی ناول نگار کے طورپر بھی تسلیم کیا جاتا ہے ۔ مثال کے طورپر اُردو شاعر اقبالؔ نے جب ’’سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا ‘‘ لکھ رہے تھے کو اپنے ابتدائی دور میں سیکولر اور قوم پرست تھے لیکن بعد میں ان کے خیالات میں فرقہ واریت کا رنگ نمایاں ہوگیا ۔ جس کا عکس ہمیں اُن کی نظم شکوہ میں دکھائی دیتا ہے ۔ اقبالؔ کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انھوں نے جناح کے دو قومی نظریہ کی تائید و حمایت کی ۔
بنکم چندر بھی اقبالؔ کی طرح غیرمعمولی ادبی صلاحیتوں کے حامل تھے لیکن شرت چندر یا پریم چند کی طرح نہیں تھے بلکہ اُن کا میلان بہت زیادہ فرقہ واریت کی طرف تھا ۔ وہ مسلمانوں کو پسند نہیں کرتے تھے اور اکثر مسلمانوں کا Yavanas کے طورپر حوالہ دیا کرتے تھے یعنی وہ اُن کیلئے توہین آمیز الفاظ استعمال کرتے تھے ۔ یہاں اُن کے مشہور و معروف ناول آنند مٹھ کا ایک مکالمہ پیش کیا گیا ہے ۔ ناول کے آخری باب میں یہ مکالمہ ایک خدائی قوت اور سنیاسیوں کے رہنما ستیانند کے درمیان ہوتا ہے کہ اس میں ایک خدائی قوت ستیانند کو اپنی جدوجہد ختم کرنے پر آمادہ کرتی ہے ۔ مکالمہ کچھ اس طرح ہے : ’’وہ‘‘ سے مراد خدائی قوت اور ’’س‘‘ سے مراد ستیانند ہے ۔ وہ : تمہارا کام مکمل ہوچکا ہے ۔ مسلمانوں کی طاقت تباہ ہوچکی ہے ۔ اب تمہارے لئے مزید کچھ کرنے کو نہیں ہے ۔ بلاوجہ خونریزی سے کوئی بھلائی حاصل نہیں ہوگی ۔ ستیانند : مسلمانوں کی طاقت واقعی تباہ ہوچکی ہے لیکن ابھی ہندوؤں کی حکومت قائم نہیں ہوئی ، انگریز اب بھی کلکتہ پر قابض ہیں ۔ وہ : اب ہندوؤں کی حکومت قائم نہیں ہوگی ، اگر تم اپنی جدوجہد جاری رکھوگے تو لوگ بے مقصد مارے جائیں گے ۔ اس لئے آو۔ ستیانند ( شدید رنج و الم کے ساتھ ) میرے آقا ! اگر ہندوؤں کی حکومت قائم نہیں ہونے والی تو پھر کون حکومت کرے گا ؟ کیا مسلمان بادشاہ واپس آئیں گے ؟
وہ : نہیں ! انگریز حکومت کریں گے ۔ ستیانند احتجاج کرتا ہے لیکن بالآخر اُسے اپنی تلوار رکھ دینے پر آمادہ کرلیا جاتا ہے۔ وہ : تمہاری نذر ہوگئی ہے ، تم نے اپنی ’’ماں ‘‘ کیلئے خوشی حاصل کی ہے ۔ تم نے ایک انگریزی حکومت قائم کردی ہے ۔ اپنی لڑائی چھوڑ دو ، لوگوں کو اپنے کھیتوں کی طرف واپس جانے دو ۔
ستیانند ( آنسو بہاتے ہوئے ) میں اپنی ماں کو اُس کے دشمنوں کے خون کی فصل سے مالا مال کروں گا ۔ وہ : دشمن کون ہیں ؟ اب کوئی دشمن نہیں ہے ۔ انگریز حاکم ہونے کے ساتھ ساتھ ہمارے دوست بھی ہیں اور جنگ میں اُنھیں کوئی شکست نہیں دے سکتا ۔
بنکم چندر کے سیاسی نظریات اور وندے ماترم کے گرد بحث : اگرچہ بنکم چندر نے پہلے یہ لکھا تھا کہ بنگالی ذہانت و دانش پٹھانوں ( افغانوں ) کی حکمرانی کے دور میں پروان چڑھی جو مسلمان تھے لیکن بعد میں انھوں نے اس موقف سے مکمل طورپر رجوع کرلیا ۔ آنند مٹھ کے پانچویں ایڈیشن میں بنکم لکھتے ہیں : ’’انگریزوں کو ہندوستان پر حکمرانی کیلئے مجبور کیا گیا تاکہ ہندو دھرم اپنی سابقہ طاقت دوبارہ حاصل کرسکے ۔ میں آپ کو وہ بات بتاتا ہوں جو ہشیار لوگ جانتے ہیں ۔ حقیقی ہندو دھرم علم پر مشتمل ہے اور وہ ( انگریز) اچھے استاد ہیں لہذا ہمیں انگریزی حکومت کو قبول کرنا چاہئے ۔ انگریزوں کی طاقت قائم رہے گی ۔
کیا یہ انگریزوں کی خوشامدی کی انتہا نہیں جنھوں نے ہندوستان کو لوٹا اور اس کے لوگوں کو غریب و بدحال کردیا۔
یہی وہ ہندو قوم پرستی تھی جسے بنکم چندر نے فروغ دیا ۔ اُن کے مطابق انگریز ہندو دھرم کے نجات دہندہ تھے ۔ یہ ناول نوآبادیاتی جبر کے خلاف مزاحمت کی ترغیب نہیں دیتا بلکہ اس میں انگریزی حکومت کے ساتھ سمجھوتہ اور تعاون کی حمایت کی گئی ہے اور ساتھ ہی مسلمانوں کے خلاف دشمنی کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔ لہذا ہمیں اس پس منظر کو ذہن میں رکھنا چاہئے کہ وندے ماترم گیت اصل میں آنند مٹھ میں شامل کیا گیا تھا جو انگریزی حکومت کے حامی اور مسلمانوں کے خلاف تعصب رکھن