وزیراعظم اسرائیل نے غزہ امن بورڈ کے سربراہ کو اپنے موقف سے واقف کروادیا ۔ حماس پر دوبارہ خود کو مستحکم کرنے کی کوشش کا الزام
تل ابیب۔ 4 اگست (یو این آئی) اسرائیلی وزیرِ اعظم نتن یاہو نے امن بورڈ سے کہا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے منصوبہ کے تحت غزہ سے جنگ بندی یا انخلا کو مسترد کرتے ہیں۔ روزنامہ ’اسرائیل ہیوم‘نے نام ظاہر نہ کرنے والے ایک اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ نتن یاہو نے کل غزہ بورڈ کے سربراہ نِکولائے ملادینوف کو اپنے اس موقف سے واقف کروادیا ہے ۔ اخبار کے مطابق نتن یاہو نے ملادینوف سے کہا کہ اسرائیل غزہ میں اپنے کنٹرول کردہ مقامات سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور نہ ہی جنگ بندی کرے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حماس اپنی عسکری طاقت کو دوبارہ سے بڑھا رہا ہے اور یہ اسرائیلی فوج اور غزہ کے اطراف کے آبادیاتی علاقوں کیلئے براہِ راست خطرہ ہے ۔ روزنامہ نے کہا کہ اسرائیل کی قومی سلامتی کونسل نے اس سے پیشتر نتن یاہو کے غزہ جنگ بندی روڈ میپ کی شرائط کے بارے میں تمام تحفظات امن بورڈ اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ٹیم تک پہنچا دیے تھے ۔ جمعہ کو امن بورڈ نے ایک مسودہ معاہدہ جاری کیا جس میں ٹرمپ کے غزہ منصوبہ کے اگلے مرحلے کیلئے اصول اور نفاذ کے طریقہ کار کی تفصیل شامل تھی، جن میں علاقہ میں سیکوریٹی ، انتظامی اور عبوری بندوبست کے ساتھ ایک مجوزہ سیاسی راستے کو بھی جگہ دی گئی تھی۔ اسی پس منظر میں، حماس نے کہا کہ وہ امن بورڈ کے نِکولائے ملادینوف اور ثالثوں کی جانب سے غزہ جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کے نفاذ کے حوالے سے حاصل ہونے والی سمجھوتوں پر واضح اور باضابطہ جواب کا انتظار کر رہی ہے ۔حماس کے ایک سینئر ذرائع نے گروپ کے ٹیلی گرام چینل پر ایک بیان میں کہا کہ حماس اور فلسطینی فصائل اس بات کے پابند رہیں گے جو دوسرے مرحلے کے نفاذ کے بارے میں طے پایا تھا ۔ جمعہ کو امن بورڈ اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے غزہ جنگ بندی کے اگلے مرحلے کے نفاذ کیلئے ایک معاہدہ کا اعلان کیا، جس میں بورڈ نے کہا کہ حماس نے ایک مفصل روڈ میپ قبول کر لیا ہے ۔ دوسری جانب، اسرائیلی نشریاتی ادارے ’قآن‘نے اطلاع دی کہ اسرائیلی فوج نے 15 نکاتی فریم ورک کے حوالے سے تین سرخ حدود طے کر رکھی ہیں۔ اس ادارہ کے مطابق ، سینئر اسرائیلی فوجی حکام کی توقع ہے کہ وہ یہ مطالبات چہارشنبہ کو چیف آف اسٹاف ایئل زامیر کے ساتھ ایک بحث میں پیش کریں گے ۔ ٹیلی ویژن کی خبر کے مطابق پہلے نکتے میں غزہ میں خطرات کو ختم کرنے مکمل کارروائی کی آزادی کا مطالبہ شامل ہے ۔ اسی ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوج غزہ میں ہتھیاروں پر کنٹرول کا بھی مطالبہ کر رہی ہے ۔ فوج نے یہ بھی کہا کہ وہ کسی بھی جزوی یا بتدریج انخلا کی مخالفت کرتی ہے جب تک کہ حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح نہ کیا جائے ۔