ٹمریز اسکول میں طالب علم کی مشتبہ موت

   

کلاس روم میں کتابیں و سامان بکھرا ہوا، جھگڑا ہونے کا شبہ، امجد اللہ خاں کا دورہ
حیدرآباد۔ 31 اگست (پریس نوٹ) تلنگانہ مائیناریٹی ریڈیشنل اسکول فار بوائز یاقوت پورہ 2 واقع سرورنگر میں واقع ہے کے نویں جماعت کے طالب علم محمد رضوان جو مشتبہ حالت میں فوت ہوگئے مذکورہ واقعہ کی اطلاع کے ساتھ ہی ترجمان ایم بی ٹی محمد امجد اللہ خاں خالد نے مقام واقعہ پہنچ کر جائزہ لیا۔ جب انہوں نے ذمہ داران سے معلومات حاصل کرنے پر انہیں بتایا گیا کہ مرحوم محمد رضوان نے کھانا کھایا اور چکر آنے کا ذکر کرتے ہوئے گر پڑے، امجد اللہ خاں نے کہا کہ ذمہ داران کی گفتگو میں واضح طور پر لچک محسوس ہو رہی تھی، جب انہوں نے اسکول میں واقع رضوان کی کلاس روم کا مشاہدہ کرنے پر ایسا محسوس ہوا کہ طلباء میں کوئی جھگڑا ہوا ہو کیونکہ کلاس روم میں بنچس اور کتابیں و دیگر سامان بکھرا پڑا ہوا پایا گیا۔ امجد اللہ خاں نے عثمانیہ دواخانہ پہنچ کر پوسٹ مارٹم جلد سے جلد کرواتے ہوئے میت ورثا کے حوالہ کروایا۔ امجد اللہ خاں خالد نے کہا کہ قبل ازیں ظہیر آباد میں واقع تلنگانہ مائیناریٹی ریڈیشنل اسکول واقع گرلز میں زیر تعلیم نویں جماعت کی طالبہ 14 سالہ سعدیہ ماہین جو شیخ آصف کی دختر تھی کی موت بھی اسی طرح مشتبہ حالت میں واقع ہوئی۔ چنانچہ اس ضمن میں کوئی کارروائی نہیں ہوئی جبکہ آر ڈی او ظہیر آباد نے وعدہ کیا تھا کہ وہ مذکورہ طالبہ کی والدہ یا والد کو سرکاری ملازمت کے ساتھ ساتھ ایگس گریشیا ادا کیا جائے گا لیکن آج کی تاریخ تک سعدیہ ماہین کے پسماندگان کو انصاف حاصل نہیں ہوا۔ امجد اللہ خاں خالد نے کہا کہ انہوں نے آئی پی ایس آفیسر شاہنواز قاسم سے بھی ملاقات کرتے ہوئے تفصیلات سے واقف کروایا تھا باوجود اس کے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ امجد اللہ خاں خالد نے کہا کہ دونوں طالب علموں کی موت کے باوجود سکریٹری وائس سپرنٹنڈنٹ فہیم قریشی اور سکریٹری شفیع اللہ نہ ہی مذکورہ اسکولس کا دورہ کیا اور نہ ہی پسماندگان سے ملاقات کی۔ امجد اللہ خاں نے کہا کہ اگر اس طرح کا واقعہ ایس سی، ایس ٹی طبقات میں ہوتا تو حکومت ہل جاتی اور مذکورہ نیوز نیشنل نیوز بن جاتی۔ یہ مسئلہ اقلیتی طبقہ سے ہونے کی وجہ سے نہ ہی کارپوریٹر اور نہ ہی رکن اسمبلی مقام واقعہ کا دورہ کیا۔