اعلیٰ عہدیداروں کی مدد سے کمیشن کی وصولی عروج پر ، نوٹ بکس پر چیف منسٹر کی تصویر تبدیل کرنے لاکھوں کا خرچ
حیدرآباد۔9۔اگسٹ۔(سیاست نیوز) تلنگانہ ریاستی اقلیتی اقامتی اسکول سوسائیٹی میں تقرر کے لئے خدمات کی انجام دہی میں سنگین غفلت ‘ بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کی سند رکھنایا پھر اپنے محکمہ میں تحقیقات کا سامنا کرتے ہوئے وہاں سے تبادلہ حاصل کرتے ہوئے ٹمریز میںخدمات انجام دی جاسکتی ہیں!محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت خدمات انجام دینے والے ادارہ ’تلنگانہ مینارٹیزریسڈنشل اسکول سوسائیٹی ‘ میں ہونے والی بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کو روکنے کے نام پر جن لوگوں کو ٹمریز میں خدمات انجام دہی کے لئے مامور کیا جا رہاہے وہ خود بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کے علاوہ محکمہ جاتی کاروائی کا سامنا کر رہے ہیں۔ بدعنوانیوں میں ملوث ریٹائرڈ افراد جو اسی ادارہ سے زائد از تین مرتبہ سبکدوش ہونے والے ملازم کو چوتھی مرتبہ واپس طلب کرتے ہوئے اس کی خدمات حاصل کی جار ہی ہیں ۔ اسی طرح اس ادارہ کے محکمہ اکاؤنٹس میں خدمات انجام دینے والے شخص کو بھی واپس طلب کیا گیا ہے تاکہ سابقہ حکومت کے دور کے بلوں کی اجرائی کے سلسلہ میں اقدامات کو یقینی بنایا جاسکے اور اس کے لئے کمیشن بھی وصول کیا جار ہاہے۔ پیشرو حکومت کے دور میں سابق پولیس عہدیداروں کی بازآبادکاری کے مرکز کے طور پر استعمال کیا جا تا رہا ہے اور اب بدعنوانیوں اور تحقیقات کا سامنا کرنے والے افراد کو ٹمریز میں خدمات کی انجام دہی کے لئے مامور کیا جانے لگا ہے۔ محکمہ پولیس میں خدمات انجام دیتے ہوئے خدمات کی انجام دہی میں سنگین غفلت کے مرتکب پائے جانے والے ملازم کو ٹمریز میں خدمات انجام دینے کے لئے رکھا گیا تھا اور اس کے خلاف محکمہ پولیس میں جاری تحقیقات کی رپورٹ محکمہ پولیس نے جو کمشنر آف پولیس سائبرآباد کی نگرانی میں اڈیشنل ڈپٹی کمشنر آف پولیس بالانگر زون مسٹر پی ستیہ نارائنہ نے جو رپورٹ تیار کی ہے اس کی نقل سیکریٹری ٹمریز کے ذریعہ مذکورہ ملازم کے حوالہ کی جاچکی ہے ۔میمو نمبر PR.No.B2/11/Major/Cyb/2023-24 جو 10جولائی 2024 کو پیش کی گئی اس رپورٹ میں تحقیقاتی عہدیدار نے مذکورہ پولیس ملازم کو’خاطی‘ قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف کاروائی کی سفارش کی ہے اور اس رپورٹ میں ملازم کو اپنی صفائی دینے کے لئے 10یوم کی مہلت فراہم کی گئی تھی لیکن ملازم کو اعلیٰ عہدیداروں کی سرپرستی حاصل ہونے کے علاوہ اس کے متعلق یہ الزامات عائد کئے جار ہے ہیں کہ یہ ملازم اعلیٰ عہدیداروں کے نام پر کمیشن حاصل کررہا ہے اور ادارہ کے بلوں کی منظوری کے لئے لاکھوں روپئے وصول کرنے کا مرتکب بننے لگا ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاست میں حکومت کی تبدیلی کے بعد ٹمریز میں تعلیم حاصل کر رہے طلبہ کو دی گئی نوٹ بکس پر موجود سابق چیف منسٹر کی تصویر کی تبدیلی کے سلسلہ میں ضلع واری اساس پر کام تقسیم کرتے ہوئے بغیر کسی ٹنڈر کے کروڑوں روپئے کے اس کام کو ایک خانگی کمپنی کے حوالہ کیاگیا ہے اور کام کی تفویض کے سلسلہ میں بھی بڑے پیمانے پر دھاندلیوں کی اطلاعات ہیں اور نوٹ بکس پر چیف منسٹر کی تصویر کی تبدیلی کیلئے اب تک لاکھوں روپئے جاری کئے جا چکے ہیں اور ابھی بلز جاری کئے جانے ہیں ۔ان بدعنوانیوں کی روک تھام کے بجائے جس قیمت میں چیف منسٹر کی تصویر کی تبدیلی کروائی جا رہی ہے اسی قیمت میں نئی نوٹ بکس کی سربراہی عمل میں لائی جاسکتی تھی لیکن مذکورہ ایجنسی کو کام حوالہ کرنے کیلئے تصویریں تبدیل کروائے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔جاری ہے……