ٹوتھ پیسٹ اور گھرداری

   

بے شمار مقاصد کیلئے استعمال ہونے والی ٹوتھ پیسٹ کا پہلا آزمودہ چٹکلہ تو دانت صاف کرنا ہی ہے۔دانتوں کی صفائی کے ساتھ ساتھ مسوڑھوں کی مضبوطی، فلورائیڈ بہم پہنچانے اور منہ کی بیماریوں سے بچاؤ کیلئے ٹوتھ پیسٹ سے بہتر کوئی اور شے نہیں ہو سکتی۔ذیل میں ہم اس ٹیوب کے چھپے ہوئے کرشموں کو یوں اُجاگر کرتے ہیں مثلاً :اگر آپ نے چاندی کے زیورات چمکانے ہوں یہ زیورات چند بار استعمال کے بعد کالے پڑ جاتے ہیں تو کسی پرانے برش پر ٹوتھ پیسٹ لگا کر اس سے دھیرے دھیرے زیور صاف کیجئے اور پھر ٹھنڈے پانی سے دھو لیجئے۔ زیور نئے جیسے ہو جائیں گے۔ گندے جوتوں مثلاً جاگرز اور ٹرینر صاف کرنا ہوں تو ان پر لگے داغ دھبوں کو بھی ٹوتھ پیسٹ کی مدد سے صاف کیا جا سکتا ہے۔ پیسٹ لگا کر رگڑیں اور گیلے کپڑے کے ساتھ اسے صاف کرتی جائیں۔دو سے تین بار یہ عمل دہرانے پر ضدی سے ضدی داغ دور ہو جاتے ہیں۔ بچوں کے کپڑوں پر Crayon اور رنگین پنسلوں کے داغ بچے دیواروں کو کینوس سمجھ کر آرٹ کے شاہکار تخلیق کیا ہی کرتے ہیں اور کبھی کبھی تو اپنے کپڑوں پر بھی تصویر کشی کر لیتے ہیں۔ ایسے داغ ٹوتھ پیسٹ رگڑ کر صاف ہو جاتے ہیں۔لہسن، پیاز اور مچھلی کی بو دور کرنے کیلئے انہیں کاٹنے اور صاف کرنے کے بعد ہاتھوں کو ٹوتھ پیسٹ سے دھو لیا جائے تو یہ بو فوراً جاتی رہے گی۔بے رونق ناخنوں کو چمکانے کیلئے بھی ٹوتھ پیسٹ کو ناخنوں پر ملا جائے تو ناخن گلابی اور صاف شفاف ہو جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں گھڑی کی اسکرین ، موبائل یا آئی فون کی اسکرین کی خراشیں دور کرنے کیلئے سادہ سفید ٹوتھ پیسٹ کی تھوڑی سی مقدار انگلی پر لے کر رگڑنے سے بالکل نئی جیسی ہو جاتی ہیں ۔ غرضیکہ ذہانت اور احتیاط سے ان گھریلو چٹکلوں کو آزما کر صفائی کا عمل کیا جائے تو بہتر نتائج دیتا ہے ۔