بی جے پی اپنی تائیدی سب سے زیادہ متاثرکن برادری کو منانے میں سرگرم، خاتون کو بینک جاب کا آفر
احمدآباد (گجرات): پاٹیدار کمیونٹی کی ایک خاتون کو جسے واردات کو سمجھنے کی خاطر عوام میں شناختی پریڈ کیلئے لایا گیا، اسے ضلع امریلی میں پولیس پر بی جے پی کے خلاف کمیونٹی کی طرف سے احتجاج شروع ہونے کے بعد چند ہی روز میں یہ کہتے ہوئے رہا کردیا گیا کہ مبینہ جرم میں اس کا کوئی رول نہیں۔ پولیس نے جمعہ کو عدالت میں حلف نامہ داخل کرتے ہوئے کہا کہ جرم میں ملزمہ کے رول کا کوئی ثبوت دستیاب نہیں ہوا۔ حلف نامہ کی بنیاد پر پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنس جج امریلی نے ملزمہ پائل گوتی کو ضمانت عطا کردی اور شام تک وہ جیل سے باہر آگئی۔ اس کی رہائی کے فوری بعد امریلی کی ایک ضلع بنک نے اسے نئی نوکری کی آفر دی جسے پاٹیدار لوگوں کو منانے کی کوشش سمجھا جارہا ہے کیونکہ وہ برسراقتدار بی جے پی کے سب سے زیادہ حمایتی ہے۔ کمیونٹی کے قائدین نے ریاست بھر بالخصوص سوراشٹرا اور سورت میں احتجاج شروع کردیا تھا جہاں ان کا دبدبہ ہے۔ اس برادری کو منانے کی خاطر بی جے پی لیڈر دلیپ سنگھانی جو انڈین فارمر فرٹیلائزر کوآپریٹیو کے چیرمین بھی ہیں، انہوں نے ملزمہ سے جیل میں ملاقات کی اور متعلقہ خاندان کی تمام تر مدد کا یقین دلایا تھا۔ ملزمہ پائل کو مقامی پولیس نے ہفتہ کو دو بی جے پی ورکرس منیش وگھاسیا اور اشوک مدرولیا کے علاوہ ایک دیگر شخص جیتوکھترا کے ساتھ گرفتار کیا تھا۔ یہ شکایت درج ہوئی تھی کہ منیش نے شریک ملزمین کے ساتھ صدر امریلی تعلقہ پنچایت کشور کنپاڑیا کا جعلی لیٹرہیڈ بنایا اور مقامی بی جے پی رکن اسمبلی کوشیک ویکاریا کے خلاف اہانت آمیز مواد تحریر کئے۔ کوشیک ریاستی اسمبلی میں پارٹی کے ڈپٹی وہپ بھی ہیں۔ پائل پر پولیس نے الزام لگایا کہ اس نے لیٹر ٹائپ کیا اور پھر اسے سوشل میڈیا پر وائرل کیا۔ اس پر سیاسی تنازعہ پیدا ہوگیا اور کشور تلپاڑیا نے پولیس میں شکایت درج کرائی۔ پولیس نے پائل کے بشمول چاروں ملزمین کا رول دیکھا اور انہیں گرفتار کرلیا ہے۔ تاہم پائل کے وکیل سندیپ پانڈیا نے عدالت کو سماعت کے دوران بتایا کہ موکلہ کو رات میں 12 بجے گرفتار کیا گیا جس پر جج نے ریمارک کیا کہ کسی عورت کو غروب آفتاب کے بعد گرفتار کرنا سپریم کورٹ کے رہنمایانہ خطوط کی خلاف ورزی ہے۔ وکیل نے یہ بھی کہا کہ پائل محض ملازمہ تھی جس کی نوکری صبح 9 تا شام 5 بجے ہوا کرتی تھی جو کمپیوٹر اس جرم میںاستعمال کیا گیا وہ اس کی تحویل میں نہیں تھا اور نہ ہی اس نے ٹائپ کیا گیا مکتوب سوشل میڈیا پر وائرل کیا ہے۔ وکیل نے یہ دعویٰ کیا کہ موکلہ کو گرفتار کرکے سیاسی دباؤ کے باعث شناختی پریڈ میں شامل کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پائل کو پولیس نے جسمانی اور ذہنی طور پر زک پہنچائی جب سرکاری وکیل نے پوچھا کہ کیوں اس نے اپنی گرفتاری کے بعد عدالت میں پیش کئے جانے پر شکایت نہیں کی ، وکیل نے جواب دیا کہ موکلہ دباؤ میں اور نروس تھی۔ کئی پاٹیدار سیاسی قائدین اور کمیونٹی کے لیڈر اس عورت کی حمایت میں آگے آئے اور عوام میں اس کی شناختی پریڈ کو کمیونٹی کی بیٹی کی توہین قرار دیا، یہاں تک کہ اس کی رہائی عمل میں آئی۔