واشنگٹن: سٹمسن سینٹر میں چائنا پروگرام کی ڈائریکٹر ین سن نے کہا ہے کہ پاک چین تعلقات پر تبصرہ کرنا امریکہ کو زیب نہیں دیتا کیوں کہ دونوں ممالک کے تعلقات سے نہ تو امریکہ کا کوئی لینا دینا ہے اور نہ ہی اس پر انھیں منہ بنانا چاہیئے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ان خیالات کا اظہار ین سن نے واشنگٹن میں پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے ہونے والے دو روزہ سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ین سن چائنا پروگرام کی ڈائریکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ ایسٹ ایشیا پروگرام کی شریک ڈائریکٹر بھی ہیں۔ین سن نے کہا کہ پاکستان پر چین کے قرضوں کو از سر نو اقساط کرانے کے لیے امریکی دباؤ درست نہیں۔ امریکہ کا اس تمام معاملے سے کوئی لینا دینا اور نہ ہی پاک چین تعلقات پر امریکہ کو منہ بنانا چاہیئے۔ین سن نے مزید کہا کہ امریکہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات جنوبی ایشیا کے لیے چین کی مجموعی حکمت عملی کا ایک عنصر تھے لیکن چین پْر اعتماد ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر ہو رہے ہیں۔تاہم ین سن نے یہ بھی کہا کہ چین پاکستان کے حوالے سے اپنی پالیسی اور توقعات کو بھی دوبارہ ترتیب دے رہا ہے، خاص طور پر سی پیک کے حوالے سے اور اس میں ایک خوش آئند رویہ ہے کہ پاکستان اپنی بیرونی حکمت عملی کو دوبارہ متوازن کرتے ہوئے امریکہ سے رابطہ کر رہا ہے۔چائنا پروگرام کی ڈائریکٹر ین سن نے کہا کہ پاکستان کی توقعات اور بیرونی صف بندی کی حکمت عملی کی کو چین میں کافی مقبولیت ملی ہے۔ سی پیک سب سے اہم مہمات میں سے ایک رہے گا۔ یاد رہیکہ پاکستان اور چین کے درمیان ہمیشہ سے ہی قربتیں رہی ہیں جس کی نہ صرف امریکہ بلکہ ہندوستان بھی مخالفت کرتا رہا ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ پاکستان میں اس وقت چین جو متعدد پراجکٹس پر کام کررہا ہے وہ اسی قربت کا نتیجہ ہے۔