پدیاترا کو روکنے پر شرمیلا کا لوٹس پونڈ پر احتجاجی دھرنا

   


حکومت پر قتل کروانے کی سازش کا الزام، عوام کیلئے زندگی قربان کرنے کا عزم
حیدرآباد۔/9 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ وائی ایس آر کانگریس پارٹی کی سربراہ وائی ایس شرمیلا نے ریاست میں پولیس کی جانب سے پدیاترا کی اجازت نہ دینے کے خلاف ٹینک بنڈ مجسمہ امبیڈکر کے پاس احتجاجی دھرنا منظم کیا جس سے تھوڑی دیر کیلئے کشیدگی پیدا ہوگئی۔ پولیس نے انہیں گرفتار کرتے ہوئے لوٹس پونڈ منتقل کردیا جس کے بعد شرمیلا نے پارٹی دفتر کے سامنے احتجاجی ہڑتال کا آغاز کردیا۔ شرمیلا نے انہیں پدیاترا روکنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ نے انہیں پدیاترا کرنے کی اجازت دی ہے باوجود اس کے پولیس کی جانب سے ان کی پدیاترا کو روکتے ہوئے عدالت کے احکام کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ عوامی مسائل پر احتجاج کررہی ہیں، پدیاترا کرتے ہوئے عوامی مسائل سے واقفیت حاصل کررہی ہیں اور ان کی پدیاترا کو عوام کی زبردست تائید حاصل ہورہی ہے جس سے حکمراں جماعت ٹی آر ایس بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی ہے۔ پہلے ورنگل میں ان کی پدیاترا بس کو نذرآتش کیا گیا، ان کے پارٹی کارکنوں پر پولیس نے بے تحاشہ لاٹھی چارج کیا ہے۔ انہوں نے حیدرآباد میں جمہوری انداز میں احتجاج کیا۔ پولیس نے بھی غیر انسانی سلوک کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے پدیاترا کرنے کی ہائی کورٹ سے اجازت حاصل کی ہے باوجود اس کے پولیس انہیں پدیاترا کرنے سے روک رہی ہے۔ شرمیلا کی پولیس سے بحث و تکرار ہوگئی ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت انہیں ہلاک کرنے کی کوشش کررہی ہے، تلنگانہ عوام کیلئے وہ جان کی قربانی دینے بھی تیار ہیں۔ وائی ایس وجیہ اماں نے احتجاجی دھرنا کرنے والی اپنی دختر شرمیلا کے احتجاج کی تائید کی اور کہا کہ حکومت شرمیلا کی پدیاترا سے خوفزدہ ہے اور ایک منظم سازش کے تحت پدیاترا کو روکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ن