پرانے شہر میں قتل و اقدام کی وارداتیں باعث تشویش

   

پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ، عوام میں خوف و ہراس

حیدرآباد ۔20 ۔ڈسمبر (سیاست نیوز) حیدرآباد کے پرانے شہر میں قتل و اقدام قتل کی وارداتیں پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بن گئے ہیں۔ گزشتہ چند روز سے پیش آرہے واقعات پولیس کی کارکردگی کو چیلنج پیش کر رہے ہیں۔ معمولی بات پر قتل اور اقدام قتل کی وارداتوں سے شہریوں میں خوف پیدا ہوگیا ہے۔ تاہم شہر کے اس حصہ میں پیدا شدہ حالات سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس کو اس علاقہ سے کوئی دلچسپی نہیں۔ فرینڈلی و کمیونٹی پولیسنگ کا تجربہ پرانے شہر میں ناکام ثابت ہورہا ہے ۔ قتل اور اقدام قتل کی وارداتیں عام بات ہوگئی ہے اور روڈی شیٹرس و غنڈہ عناصر کے حوصلے پولیس کی مبینہ لاپرواہی کے سبب بلند ہوگئے ہیں ۔ ان واقعات کے پیش آنے کے بعد پولیس صرف ضابطہ کی کارروائی تک محدود ہوگئی اور اپنی کارروائی میں مصروف رہتی ہے ۔ پولیس کی کارکردگی سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس جرائم کو روک تھام میں بالکل دلچسپی نہیں رکھتی۔ جس طرح ٹریفک پولیس چالانات میں مستعدی دکھاتی ہے ، اگر اس طرح لاء اینڈ آرڈر پولیس جرائم کی روک تھام میں اتنی دلچسپی دکھاتی تو شائد اس طرح کے حالات پیش نہیں آتے۔ پولیس اسٹیشن صرف تصفیہ دار اور مخبروں کی مبینہ سرگرمیوں کے مرکز بن گئے ہیں۔ پولیس کی گشت بھی محض ضابطہ کی کارروائی کا سبب بن گئیہے ۔ پرانے شہر میں سماجی برائیوں کی روک تھام اور جرائم پیشہ افراد پر سے پولیس کا خوف اٹھتا جارہا ہے ۔ رات کے اوقات کاروباری اداروں کا کھلا رہنا اور راتوں میں غیر سماجی سرگرمیاں عام شہریوں کیلئے مشکلات کا سبب بن رہے ہیں۔ نوجوان نسل میں بے راہ روی‘ نشیلی اشیاء کا استعمال اور اپنے بازوں کا زور دکھانا ایک دوسرے پر برتری اور علاقوں میں دبدبہ بنانے کی کوشش جیسے حالات سے ایسا ظاہر ہورہا ہے کہ اب پولیس کا کنٹرول باقی نہیں رہا ۔ پولیس اسٹیشنوں سے وابستہ عملہ پر مقامی مخبروں اور تصفیہ داروں سے تال میل کے الزامات عائد کئے جارہے ہیں اور عملہ کی کارکردگی پر ذمہ دار آفسروں کا کنٹرول بھی کمزور ہو گیا ہے۔ تصفیہ داروں اور مخبروں کی اطلاعات اور ان کی پیرویوں پر زیادہ توجہ مرکوز کی جارہی ہے اور حقیقی مستحقین کو پولیس اسٹیشن کے چکر کاٹنے پر مجبور کیا جارہا ہے ۔ پرانے شہر کے علاقوں چندرائن گٹہ ، حسینی علم‘ کالا پتھر ، بہادر پورہ ، رین بازار ، بھوانی نگر و دیگر علاقوں میں گزشتہ چند روز سے غیر سماجی سرگرمیوں میں اضافہ سے شہریوں کی پریشانیوں میں اضافہ ہوا ہے ۔ تشویش اور خوف کے عالم میں شہری اب اپنی سلامتی کے تعلق سے فکرمند ہوگئے ہیں۔ معمولی بات پر جھگڑے ، قتل و اقدام قتل کی ان وارداتوں کے پیش آنے سے حالات دن بہ دن سنگین صورتحال اختیار کرتے جارہے ہیں۔ ایسے حالات میں پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں کو چاہئے کہ وہ سابقہ عہدیداروں کی طرز پر کارروائیوں کو انجام دیتے ہوئے حالات کو پرسکون بنانے کے اقدام کو اہمیت دیں اور پرانے شہر کی ساکھ کو متاثر کرنے اور پرسکون عوامی زندگی اور سماج میں بے چینی پیدا کرنے کا سبب بن رہے وجوہات کا پتہ چلاتے ہوئے ان کی روک تھام کے اقدامات کریں اور فرینڈلی و کمیونٹی پولیسنگ کے مقصد کو پورا کرتے ہوئے پرانے شہر پر اپنی خصوصی توجہ مرکوز کریں۔ع