ایڈوکیٹ جنرل کا تحقیقات میں شفافیت کا دعویٰ ، ادرخواست پر 24 اپریل کو آئندہ سماعت
حیدرآباد۔/11 اپریل، ( سیاست نیوز) تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے امتحانی پرچہ جات افشاء معاملہ میں آج تلنگانہ ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔ کانگریس کی طلباء تنظیم این ایس یو آئی کے صدر بی وینکٹ کی جانب سے داخل کردہ درخواست کی سماعت کی گئی۔ افشاء کی جانچ کرنے والی خصوصی تحقیقات ٹیم نے تحقیقاتی پیش رفت کے بارے میں اپنی رپورٹ سربہ مہر لفافہ میں پیش کی۔ ایڈوکیٹ جنرل بی ایس پرساد نے کہا کہ اس معاملہ میں18 ملزمین کے منجملہ 17 کو خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے گرفتار کیا ہے۔ نیوزی لینڈ میں موجود ایک ملزم کی گرفتاری کی مساعی کی جارہی ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ افشاء معاملہ کی جانچ پوری شفافیت سے کی جارہی ہے۔ درخواست گذار کی جانب سے سپریم کورٹ کے سینئر کونسل ویویک دھنکا نے بحث کی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو حکومت کے کنٹرول میں موجود خصوصی تحقیقاتی ٹیم پر بھروسہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ضلع میں کس امیدوار کو کیا نشانات ملے اس بارے میں ریاستی وزیر کی جانب سے انکشاف کیا گیا جس سے پتہ چلتا ہے کہ تحقیقات کی تفصیلات حکومت کو پیش کردی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم چھوٹے ملازمین کی جانچ کررہی ہے۔ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے اس معاملہ میں منی لانڈرنگ کے شبہات ظاہر کئے ہیں ایسے میں افشاء معاملہ کی جانچ سی بی آئی کے حوالے کی جائے۔ فریقین کی سماعت کے بعد عدالت نے ایڈوکیٹ جنرل سے سوال کیا کہ امتحانات کے انعقاد میں شامل افراد کو کیا امتحانات میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی ہے۔ عدالت نے امتحانات کے انعقاد کی ذمہ داری سے متعلق ادارہ کی تفصیلات داخل کرنے کی ہدایت دی۔ اس معاملہ کی آئندہ سماعت 24 اپریل کو مقرر کی گئی۔ واضح رہے کہ پبلک سرویس کمیشن کے پرچہ جات کے افشاء معاملہ میں انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے نامپلی کورٹ میں پٹیشن داخل کی ہے۔ ای ڈی نے 23 مارچ کو سی سی ایس کو مکتوب روانہ کیا۔ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے تحقیقات سے متعلق دستاویزات حوالے کرنے کی خواہش کی۔ر