پہلی تا آٹھویں جماعت کے اقلیتی طلبہ اسکالرشپس سے محروم

   

مرکزی حکومت کے تازہ احکامات سے تلنگانہ کے 40 تا 50 ہزار معصوم طلبہ پر اثر
حیدرآباد /2 ڈسمبر ( سیاست نیوز ) کارپوریٹ اداروں کو بڑی سہولتیں ، رعایتیں دینے ‘ لاکھوں کروڑ قرضہ جات معاف کرنے والی مودی حکومت نے پہلی تا آٹھویں جماعت زیر تعلیم اقلیتی طلبہ کی معمولی اسکالرشپ روکنے کا فیصلہ کیا جس کا تلنگانہ کے 40 تا 50 ہزار اقلیتی طلبہ پر اثر پڑ رہا ہے ۔ مودی حکومت تشکیل پانے کے بعد اقلیتی بجٹ کو فراموش کردیا گیا ۔ آہستہ آہستہ اقلیتی بہبود کی رقم کو گھٹادیا گیا ۔ اب پہلی تا 8 ویں جماعت کے معصوم اقلیتی طلبہ کو اسکالرشپس کی اجرائی سے محروم کیا جارہا ہے ۔ مرکزی حکومت کے احکام کے بعد پری میٹرک اسکالرشپ کیلئے الجھن پیدا ہوگئی ۔ مرکز نے جاریہ تعلیمی سال محکمہ اقلیتی بہبود کو موصول اسکالرشپ درخواستوں میں صرف نویں اور دسویں کے طلبہ کے درخواستوں کی یکسوئی کی ہدایت دی جس سے یہ الجھن پیدا ہوئی ہے اور غریب طلبہ کے والدین تشویش کا شکار ہیں ۔ اسکالرشپس کیلئے تلنگانہ میں پہلی تا دسویں جماعت کے تقریباً 1.6 لاکھ طلبہ نے درخواستیں داخل کی ہیں ۔ مرکز ہر سال اسکالرشپ کوٹہ کے تحت 65 ہزار طلبہ کو اسکالرشپس منطور کرتا ہے ۔ تازہ احکام سے تلنگاہ کے 40 تا 50 ہزار طلبہ اسکالرشپس سے محروم ہو رہے ہیں۔ پہلی تا پانچویں جماعت طلبہ کو ہر ماہ 100 روپئے پانچویں تا دسویں جماعت تک زیر تعلیم طلبہ کو ہر ماہ 350 روپئے کے حساب سے 10 ماہ تک اسکالرشپ دی جاتی ہے ۔ اسکے علاوہ سالانہ داخلہ فیس کے طور پر 500 روپئے دیگر اخراجات کے طور پر ہر ماہ مزید 100 روپئے ادا کئے جاتے ہیں ۔ جاریہ سال اسکالرشپس کیلئے درخواستوں کی وصولی کے بعد مرکز نے یہ احکام جاری کئے ۔ حق تعلیم قانون کے تحت پہلی تا 8 ویں جماعت مفت پرائمری تعلیم فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ سماجی انصاف اور قبائلی امور کی وزارت کلاس 9 اور 10 کے طلبہ کو پری میٹرک اسکالرشپ فراہم کرتی ہے ۔ اسی طرز پر وزارت اقلیتی امور نے نویں و دسویں جماعتوں کے طلبہ کو پری میٹرک اسکالرشپ دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ریاستی اور ضلعی سطح کے نوڈل آفیسرس کو طلبہ کی اسکالرشپس کے درخواستوں کی جانچ کی ہدایت جاری کی گئی ۔ جس میںپہلی تا 8 ویں جماعت کے طلبہ کی درخواستوں کو نظر انداز کیا جارہا ہے ۔ وزیر اعظم مودی نے سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ دیا تھا تاہم تعلیم میں اقلیتی طلبہ کو اسکالرشپس کی معمولی رقم سے محروم کیا جارہا ہے ۔ اب یہ کہا جاسکتا ہے کہ اچھے دن آگئے ہیں ۔ ن