بنگلورو؍نئی دہلی، 30 جولائی (یو این آئی) کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے جمعرات کو کہا کہ تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ وجے نے طویل عرصے سے جاری دریائے کاویری کے آبی تنازعہ کو مذاکرات کے ذریعہ حل کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے ، تاہم کرناٹک نے تازہ ترین پانی چھوڑنے کی ہدایت کو کاویری مینجمنٹ اتھارٹی (سی ایم اے ) میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔نئی دہلی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے شیوکمار نے کہا کہ تمل ناڈو حکومت نے کاویری مسئلے پر بات چیت کی خواہش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تمل ناڈو کے چیف سکریٹری نے اس سلسلے میں کرناٹک حکومت کو خط بھی لکھا ہے اور ان سے فون پر بھی گفتگو کی ہے ۔انہوں نے کہاکہ تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ مذاکرات کے ذریعے کاویری مسئلے کا حل تلاش کرنے کے خواہاں ہیں۔ شیوکمار نے وزیر اعلیٰ وجے کو کرناٹک کے بڑے آبی منصوبوں، بشمول مجوزہ میکیداتو بیلنسنگ ریزروائر، کا دورہ کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اس مقصد کیلئے وہ اپنا ذاتی ہیلی کاپٹر بھی فراہم کریں گے ۔ انہوں نے کہاکہ میں نے تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ کیلئے اپنا ہیلی کاپٹر تیار رکھا ہے ۔ وکلاء اور سینئر حکام کی ایک ٹیم انہیں کرناٹک کے آبی منصوبوں اور اس تنازعہ پر ریاست کے مؤقف سے بھی آگاہ کرے گی۔ تاہم شیوکمار نے ایک بار پھر کاویری واٹر ریگولیشن کمیٹی کی اس ہدایت کی مخالفت دہرائی، جس میں کرناٹک کو 15 دن تک روزانہ 3,500 کیوسک پانی تمل ناڈو کو چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کرناٹک اس حکم کو کاویری مینجمنٹ اتھارٹی کے سامنے چیلنج کرے گا، کیونکہ اس سے قبل بھی تمل ناڈو کی جانب سے کی گئی ایسی دو درخواستیں مسترد کی جا چکی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قانونی چارہ جوئی کے باوجود کرناٹک تمل ناڈو کے وفد کا مناسب خیرمقدم کرے گا اور کاویری پانی کی تقسیم کے قانونی طریقہ کار کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو بھی پورا کرے گا۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کاویری واٹر ریگولیشن کمیٹی کی تازہ ہدایت کے بعد دونوں جنوبی ریاستوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے معاملے پر ایک بار پھر کشیدگی بڑھ گئی ہے ۔