غریبوں کی جیب پر ڈاکہ ڈال کر کارپوریٹ اداروں کے مفادات کا تحفظ کرنے کا الزام
حیدرآباد ۔ 16 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : ریاستی وزیر آئی ٹی و صنعت کے ٹی آر نے مودی کے زیر قیادت مرکزی حکومت کو عام آدمی کی نہیں کارپوریٹ اداروں کی حکومت ہونے کا دعویٰ کیا ۔ ایکسائز ڈیوٹی ، سیس اور ٹیکسوں میں بے تحاشہ اصافہ کرنے کے بعد پٹرول کی قیمتوں میں کمی کرنے کے بجائے کارپوریٹ آئیل کمپنیوں کے ونڈفال ٹیکس کو کم کرنے پر مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت ملک کے عوام کو معاشی مسائل سے دوچار کررہی ہے ۔ صرف کارپوریٹ اداروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے کام کررہی ہے ۔ ایک طرف سیس اور ڈیوٹیز کے نام پر پٹرول کی قیمتوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ کردیا ۔ عوام پٹرول کے بوجھ سے راحت فراہم کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں ۔ اس پر توجہ دینے کے بجائے کارپوریٹ آئیل کمپنیوں کے ونڈفال ٹیکس میں کمی کی ہے ۔ اس سے پھر ایک مرتبہ مرکزی حکومت کے معاشی پالیسیوں کا پردہ فاش ہوا ہے ۔ کارپوریٹ اداروں کو منافع پہونچنا ، عام آدمی پر بوجھ عائد کرنا ، آئیل کمپنیوں کو فائدہ پہونچانا اور غریب عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنا مودی حکومت کی پالیسی بن گئی ہے ۔ تازہ ترین فیصلے سے بی جے پی حکومت نے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ اس کی پہلی ترجیح کارپوریٹ کمپنیاں ہیں ۔ ان کارپوریٹ کمپنیوں کی جانب سے حاصل کی جانے والی آمدنی کس کے جیب میں جارہی ہے ۔ عوام سب جانتے ہیں ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کے لیے مرکزی حکومت روس اور یوکرین کی جنگ کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے غریب عوام کو لوٹ رہی ہے ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ تلنگانہ میں 2014 سے ویاٹ میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا گیا مگر مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ میں ویاٹ کم نہ کرنے کا تلنگانہ حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔ سیس کے نام پر 30 لاکھ کروڑ روپئے غبن کرتے ہوئے ریاستوں کے ٹیکس حصہ داری کو نہ کے برابر کردیا گیا ہے اور پھر دوبارہ ریاستوں کو ذمہ دار قرار دیا جارہا ہے ۔۔ ن