کالیشورم پراجکٹ میں دھاندلیاں اور بدعنوانیوں کے کے سی آر ذمہ دار

   

تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں پی سی گھوش کمیشن رپورٹ کے اقتباسات ارکان میں تقسیم، بی آر ایس کا احتجاج
حیدرآباد۔31۔اگسٹ(سیاست نیوز) کالیشورم پراجکٹ میں ہونے والی دھاندلی اور بدعنوانیوں کے لئے پیشرو حکومت بالخصوص راست چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ ذمہ دار ہیں۔ پی سی گھوش کمیشن رپورٹ جو کہ کالیشورم پراجکٹ میں ہونے والی دھاندلیوں اور بدعنوانیوں کی تحقیقات کے لئے قائم کیاگیا تھا اس کمیشن کی رپورٹ کو حکومت تلنگانہ نے آج تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں پیش کرتے ہوئے رپورٹ کے اقتباسات سے ایوان کو واقف کروایا جبکہ تمام اراکین اسمبلی کو حکومت کی جانب سے ’’پین ڈرائیو‘‘ میں رپورٹ کی نقل فراہم کی گئی جس پر اپوزیشن پارٹی بھارت راشٹرسمیتی نے احتجاج کرتے ہوئے رپورٹ کی نقل دینے کا مطالبہ کیا ۔ بتایاجاتا ہے کہ حکومت کی جانب سے رپورٹ کی نقولات نہ دینے کے سلسلہ میں جواز پیش کیا کہ 600 سے زائد صفحات پر مشتمل رپورٹ کو ڈیجیٹل طریقہ سے اراکین اسمبلی کو حوالہ کیا گیا ہے جبکہ تمام سیاسی جماعتوں کے قائد ایوان مقننہ کو رپورٹ کی نقل کی فراہمی کے اقدامات بھی کئے جا رہے ہیں۔ سابق سپریم کورٹ جج پناکی چندرا گھوش نے کالیشورم معاملہ میں کی گئی جامع تحقیقات کے بعد 31جولائی کو حکومت تلنگانہ کو اپنی مکمل رپورٹ پیش کردی تھی اور آج حکومت تلنگانہ نے پی سی گھوش کمیشن کی رپورٹ کو تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں پیش کرتے ہوئے کمیشن کی رپورٹ پر مختصر مدتی مباحث منعقد کرنے کا اعلان کیا ۔ رپورٹ میں موجود اقتباسات کے مطابق کمیشن نے کالیشور م پراجکٹ معاملہ میں تفصیلی پراجکٹ رپورٹ کا جائزہ نہ لیتے ہوئے تین ڈیم کی تعمیر کو منظوری دیئے جانے کی نشاندہی کی اور کہا کہ میدی گڈہ ‘ انارم اور سندیلا بیاریج کی تعمیر کے سلسلہ میں ہونے والی بے قاعدگیوں کے لئے مسٹر کے چندر شیکھر راؤ جو اس وقت کے چیف منسٹر تھے وہ راست طور پر ذمہ دارہیں۔رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ریاستی حکومت کے عہدیداروں کی جانب سے تیار کئے گئے اقتباس کے مطابق کمیشن نے کالیشورم پراجکٹ کی منصوبہ بندی ‘ عمل آوری ‘ تکمیل کے علاوہ آپریشن اور دیکھ بھال کے تمام معاملات میں مسٹر کے چندرشیکھر راؤ کو ذمہ دار اور جوابدہ قرار دیا ہے۔کمیشن نے اپنی رپورٹ میں مسٹر ٹی ہریش راؤ اور مسٹر ایٹالہ راجندر کو بھی جوابدہ بنایا ہے اور کہا کہ دونوں قائدین کالیشورم پراجکٹ کی منظوری اور تعمیر کے وقت وزیر آبپاشی اور وزیر فینانس کے عہدوں پر فائز تھے ۔تلنگانہ میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد کانگریس نے کالیشورم پراجکٹ معاملہ میں ہونے والی بے قاعدگیوں کی جانچ کے لئے ایک رکنی کمیشن کے قیام کو منظوری دی تھی اور حکومت نے سابق جج سپریم کورٹ جسٹس پی سی گھوش کمیشن کے قیام کو 14 مارچ2024 کو منظوری دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے معاملہ کی تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔31 جولائی کو کمیشن کی جانب سے حکومت کو رپورٹ پیش کئے جانے کے بعد بی آر ایس قائدین نے قانونی مشاورت کے بعد تلنگانہ ہائی کورٹ سے رجوع ہوتے ہوئے پی سی گھوش کمیشن رپورٹ کو برخواست کرنے اور اسے اسمبلی میں پیش کرنے سے حکومت کو روکنے کی ہدایت دینے کے لئے درخواست داخل کی تھی لیکن عدالت نے مسٹر ہریش راؤ کو اس سلسلہ میں فوری طور پر کوئی راحت دینے سے انکار کرتے ہوئے مقدمہ کی آئندہ سماعت پر ان کی درخواست کا جائزہ لینے کا تیقن دیا تھا لیکن حکومت نے اسمبلی کے اجلاس میں پی سی گھوش کمیشن رپورٹ پیش کردی۔3