کانگریس ورکنگ کمیٹی کا سی ای سی گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ

,

   

ایس آئی آر فوری روکنے کی قرارداد منظور‘ ایس آئی آر کیخلاف مہم جاری رکھنے کا اعلان

نئی دہلی۔29؍ستمبر ( ایجنسیز ) کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) نے منگل کو ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ کمیٹی نے ملک میں جاری ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کو فوری طور پر معطل کرنے اور اس عمل کے دوران ووٹر لسٹ سے خارج کیے گئے 13 کروڑ 30 لاکھ ناموں کو بحال کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔کانگریس ورکنگ کمیٹی کی جانب سے جاری قرارداد میں الیکشن کمیشن کے کام کاج اور ایس آئی آر کے طریقۂ کار پر سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ کانگریس نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ رپورٹس سے اس کے ان خدشات کو تقویت ملی ہے کہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر کے دور میں الیکشن کمیشن کے کام کاج پر حکمران جماعت اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کا اثر بڑھا ہے۔قرارداد میں کانگریس نے پارٹی قائد راہول گاندھی کی جانب سے انتخابی عمل میں بے ضابطگیوں اور ’ووٹ چوری‘ کے حوالے سے اٹھائے گئے سوالات کا بھی ذکر کیا۔ پارٹی نے ای وی ایم کی قابلِ اعتمادیت، ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے اور حذف کرنے کے طریقۂ کار، چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے طریقۂ کار اور انہیں حاصل قانونی تحفظ جیسے معاملات کو بھی اپنی تشویش کا حصہ قرار دیا ہے۔کانگریس ورکنگ کمیٹی نے الیکشن کمیشن میں اختلافات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دو الیکشن کمشنروں نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران 14 مواقع پر بعض فیصلوں اور احکامات پر اعتراضات درج کرائے۔ ان میں ایس آئی آر کے دوران استعمال ہونے والے فارم-6 میں کی گئی تبدیلیاں بھی شامل ہیں۔ سپریم کورٹ میں بھی ایک درخواست کے ذریعے گیانیش کمار کے یکطرفہ فیصلوں اور ایس آئی آر کے قانونی جواز کو چیلنج کیا گیا ہے ۔دوسری جانب الیکشن کمیشن کا موقف ہے کہ ایس آئی آر سے متعلق اس کے فیصلے قانونی اور مقررہ طریقۂ کار کے مطابق ہیں جبکہ کمیشن نے اندرونی اختلافات کو ادارہ جاتی غوروفکر کا معمول کا حصہ قرار دیا ہے۔