تلنگانہ حکومت کے کسانوں کے لیے مختلف اقدامات ، انتخابی وعدوں کی تکمیل کو یقینی بنانے کی مساعی : چیف منسٹر
حیدرآباد۔2۔نومبر۔(سیاست نیوز) چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے حکومت تلنگانہ پر کی جانے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے کسانوں کو قرض کے بوجھ سے آزاد کرنے کے لئے اقدامات کئے گئے ہیں اور کانگریس نے تلنگانہ میں اقتدار حاصل کرنے سے قبل جو وعدے کئے تھے ان کی تکمیل کو یقینی بنا رہی ہے۔ چیف منسٹر نے گذشتہ یوم وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے کی گئی تنقید کے جواب میں آج X پلیٹ فارم سابقہ ٹوئیٹر کے ذریعہ جواب دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے اقتدار حاصل کرنے کے اندرون دو یوم آروگیہ شری اسکیم کی حد کو 5لاکھ سے بڑھا کر 10 لاکھ کرنے کا فیصلہ کیاگیا جبکہ خواتین کو مفت بس کی سہولت فراہم کی جار ہی ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ریاستی حکومت نے تلنگاہن میں 200 یونٹ مفت برقی سربراہی اسکیم پر عمل آوری بھی شروع کردی ہے اور 500 روپئے میں گیاس سیلنڈر کی فراہمی عمل میں لائی جانے لگی ہے۔ انہو ںنے ریاستی حکومت کی جانب سے فراہم کی گئی ملازمتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے بے روزگار نوجوانوں سے کئے گئے وعدہ کو پورا کرتے ہوئے انہیں ملازمتوں کی فراہمی عمل میں لائی جانے لگی ہے علاوہ ازیں نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کے سلسلہ میں ریاستی حکومت کی جانب سے متعدد اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ مسٹر اے ریونت ریڈی نے کہا کہ ریاستی حکومت نے22لاکھ 22ہزار کسانوں کے 2 لاکھ روپئے تک کے قرض کی معافی کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے ہیں اور اس کے لئے حکومت نے 18ہزار کروڑ روپئے خرچ کئے ہیں۔ انہو ںنے بتایا کہ حکومت کسانوں کی پیداوار کی خریدی کے معاملہ میں بھی سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے جبکہ سابقہ حکومت کے دور میں بیشتر تمام شعبہ جات کو تباہ کردیا گیا تھا اور شعبہ تعلیم کو 10 سال کے دوران مسلسل نظرانداز کیا گیا تھا ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ریاست تلنگانہ میں حکومت نے اندرون 11ماہ 50 ہزار سے زائد نوجوانوں کو ملازمتوں کی فراہمی یقینی بنائی ہے اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لئے حکومت نے اسکل یونیورسٹی اور اسپورٹس یونیورسٹی کے قیام کے لئے اقدامات کا آغاز کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت تلنگانہ ریاست میں عوام کی فلاح و بہبود کے لئے کام کر رہی ہے اور اپوزیشن جماعتیں حکومت پر بے بنیاد الزامات عائد کرتے ہوئے اپنے وجود کو برقرار رکھنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ مسٹر اے ریونت ریڈی نے وزیر اعظم کو دئیے گئے جواب میں کہا کہ ریاستی حکومت کی کارکردگی کا اگر وہ کسی بھی بی جے پی زیر اقتدار والی ریاست سے موازنہ کرتے ہیں تو بی جی پی اقتدار والی بیشتر تمام ریاستوں سے تلنگانہ کی کارکردگی بہتر نظر آئے گی اسی لئے حکومت تلنگانہ پر تنقید سے قبل وزیر اعظم کو اپنی پارٹی کی ریاستوں کی کارکردگی کا جائزہ لینا چاہئے ۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے عوام کو سہولتوں کی فراہمی کے سلسلہ میں متعدد اقدامات کئے جا رہے ہیں اور ساتھ میں ریاست و شہر حیدرآباد کی ترقی کے علاوہ نئے شہر کو آباد کرنے کی منصوبہ بندی کی جار ہی ہے جبکہ ملک کی کسی بھی دوسری ریاست میں نئے شہر کو آباد کرنے کے سلسلہ میں کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی اور تلنگانہ میں کانگریس حکومت پہلی مرتبہ اس طرح کا منصوبہ تیار کرتے ہوئے اس پر عمل آوری کو یقینی بنانے کی سمت کام کر رہی ہے۔انہو ں نے ریاستی حکومت کی جانب سے ہر منڈل میں انٹگریٹڈ اسکول کے قیام کے سلسلہ میں ریاستی حکومت کے منصوبہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تلنگانہ نے20ایکڑ اراضی پر محیط انٹگریٹڈ اسکولوں کے قیام کے ذریعہ طلبہ کو بہترین اور معیاری سہولتوں کی فراہمی اور عالمی معیار کی تعلیم کی سہولتیں فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس پر عمل آوری کا آغاز بھی کردیا گیا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم کو بتایا کہ گذشتہ 10 سال کے دوران اقامتی اسکولو ں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے لئے ڈائیٹ چارجس اور کاسمٹکس چارجس میں کوئی اضافہ نہیں کیاگیا تھا لیکن 10 سال بعد کانگریس نے اقتدار حاصل کرنے کے بعد طلبہ کو سہولتوں کی فراہمی کے اقدامات کے طور پر یہ فیصلہ کیا ہے اور اندرون 10 یوم اس پر عمل آوری کی جائے گی۔ چیف منسٹر تلنگانہ اے ریونت ریڈی نے حکومت کی جانب سے موسیٰ ندی کے احیاء اور اسے خوبصورت بنانے کے پراجکٹ کے متعلق کہا کہ ریاستی حکومت نے کئی دہائیوں سے نظرانداز کردہ اس پراجکٹ کو حکومت نے دوبارہ شروع کیا ہے جبکہ گذشتہ 10 برسوں کے دوران ریاست میں تالابوں اور ماحولیات کو نقصان پہنچایا جاتا رہا لیکن تلنگانہ میں کانگریس نے اقتدارحاصل کرنے کے بعد فوری طور پر تالابوں کے احیاء اور ان پر کئے گئے قبضہ جات کو برخواست کرنے کے سلسلہ میں اقدامات کئے گئے ۔ انہو ںنے بتایا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے موسیٰ ندی کے احیاء کے علاوہ ریاست بالخصوص شہر حیدرآباد کے نواحی علاقوں میں موجود تالابوں کے احیاء کے اقدامات کئے گئے ہیں۔3