یہ واضح ہوگیا کہ کشمیر میں حالات معمول کے مطابق نہیں ہیں۔ سابق کانگریس صدر کا ٹوئیٹر پر تبصرہ
نئی دہلی 25 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) جموں و کشمیر میں پیدا ہونے والے حالات پر مودی حکومت کو آج کانگریس نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور راہول گاندھی نے کہا کہ اپوزیشن اور صحافت کو جب انہوں نے سرینگر کا دورہ کرنے کی کوشش کی تو ظالمانہ انتظامیہ کی جانب سے عوام کے خلاف استعمال کی جانے والی بہیمانہ طاقت کا پتہ چلا ہے ۔ علاوہ ازیں کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے بھی اس مسئلہ پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔ واضح رہے کہ اپوزیشن قائدین کے ایک وفد نے جس میں راہول گاندھی بھی شامل تھے کل جموں و کشمیر کا دورہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن انہیں سرینگر ائرپورٹ سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی گئی اور انہیں واپس دہلی آنا پڑا ۔ یہ دورہ اس وقت کرنے کی کوشش کی گئی تھی جب ریاستی حکومت کی جانب سے ایک بیان جاری کرتے ہوئے سیاسی قائدین سے کہا گیا تھا کہ وہ وادی کا دورہ نہ کریںکیونکہ اس سے وہاں بتدریج جو امن بحال ہورہا ہے اور عام زندگی جو معمول پر آ رہی ہے وہ متاثر ہوسکتی ہے ۔ راہول گاندھی نے اپنے ایک ٹوئیٹ میں کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام کی آزادی اور ان کے سیول حقوق کو تلف کرتے ہوئے اب 20 دن گذر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم نے وہاں کا دورہ کرنے کی کوشش کی تو ہمیں ظالمانہ انتظامیہ کی جانب سے وہاں کے عوام کے خلاف استعمال کی جانے والی بہیمانہ طاقت کا پتہ چلا ہے ۔ سابق کانگریس صدر نے ایک ویڈیو بھی وہاں پیش آنے والے حالات کی اپ لوڈ کی تھی ۔ اس ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ وہ کس طرح سے حکام کو مطمئن کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں کہ انہیں دورہ کیلئے ریاستی گورنر ستیہ پال ملک نے ہی مدعو کیا ہے ۔ راہول گاندھی ستیہ پال ملک کی اس پیشکش کا حوالہ دے رہے تھے جس میں انہوں نے راہول سے کہا تھا کہ وہ انہیں دورہ کیلئے طیارہ بھی فراہم کرنے تیار ہیں ۔ راہول گاندھی نے کہا تھا کہ ریاست کے عوام مر رہے ہیں اور صورتحال معمول پر نہیں ہے جیسا حکومت دعوی کر رہی ہے ۔ راہول گاندھی نے جو ویڈیو اپ لوڈ کیا ہے اس میں حکام انتظامیہ کا وہ مکتوب پڑھتے دکھائی دے رہے ہیں جو اپوزیشن قائدین کے نام تھا ۔ اس کے علاوہ راہول گاندھی میڈیا سے بھی بات کر رہے ہیں۔ انہیںیہ الزام عائد کرتے ہوئے سنا گیا کہ ان کے ساتھ جانے والے میڈیا ارکان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی اور انہیںمار پیٹ کی گئی ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب یہ واضح ہوگیا ہے کہ جموں و کشمیر میں حالات معمول کے مطابق نہیں ہیں۔ اتوار کو کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے ٹوئیٹر پر ایک ویڈیو پوسٹ کیا ہے جس میں ایک خاتون راہول گاندھی سے شکایت کرتی دکھائی دے رہی ہے ۔ یہ خاتون طیارہ میں راہول سے کہہ رہی تھی کہ انہیں اور افراد خاندان کو کشمیر میں کس طرح کے مسائل کا سامنا ہے ۔ اپوزیشن کو دورہ کی اجازت نہ دئے جانے کے بعد سینئر کانگریس لیڈر ششی تھرور نے کہا کہ اب یہ واضح ہوگیا ہے کہ گورنر ستیہ پال ملک نے راہول گاندھی کو دورہ کشمیر کی جو دعوت دی تھی وہ سنجیدہ نہیں تھی ۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا میں کشمیر پر مباحث کے دوران انہوں نے جو تجویز پیش کی تھی کہ کل جماعتی قائدین کو ریاست کے دورہ کی اجازت دی جائے تاہم اس کا بھی ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا ہے ۔ حکومت یہ بتانا نہیں چاہتی کہ وہ وہاں کیا کر رہی ہے ۔