کورونا کی وبا ختم ہو چکی ہے: وائرولوجسٹ کرسچن ڈورسٹن

,

   

کورونا اب محض ایک مقامی بیماری میں تبدیل، دنیا کی بڑی آبادی کی قوت مدافعت میں اضافہ کا دعویٰ

برلن : کورونا پر تحقیقات کے جرمن ماہر کرسچن ڈورسٹن کے خیال میں کورونا وائرس کی وبا ختم ہو چکی ہے اور اب یہ ایک مقامی بیماری ہے۔ جرمن وزیر انصاف نے بھی اس وبا کے حوالے سے عائد آخری پابندیوں کو بھی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔متعدی بیماریوں اور وائرس کے جرمن ماہر کرسچن ڈورسٹن نے ایک مقامی اخبار ‘ٹیگسپیگل’ سے بات چیت میں کہا کہ کوویڈ 19 کی وبا کو اب ختم سمجھنے پر غور کیا جا سکتا ہے کیونکہ اب یہ ایک مقامی بیماری ہے۔ برلن کے چیریٹی یونیورسٹی ہاسپٹل میں شعبہ وائرولوجی کے سربراہ نے عالمی وبا کے پیچھے کورونا وائرس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس موسم سرما میں سارس۔کوویڈ 2 کی پہلی مقامی لہر کا سامنا کر رہے ہیں، میرے اندازے کے مطابق وبا اب ختم ہو چکی ہے۔ پیر کے روز شائع ہونے والے تبصروں میں ڈورسٹن نے کہا کہ اس موسم سرما کے بعد، آبادی میں قوت مدافعت اتنی وسیع اور لچکدار ہو جائے گی کہ گرمیوں کے دوران وائرس کے پھیلنے کا امکان بہت کم ہو گا۔اس دوران انتہائی نگہداشت زمرے کے معالج کرسچن کاراگیانیڈز، جو جرمنی میں کووڈ 19 کے ماہرین پر مشتمل کونسل کے رکن بھی ہیں، نے کہا ہے کہ ممکنہ طور پر موسم سرما کے بعد یہ وبائی مرض ختم ہو جائے گا۔انہوں نے ایک مقامی میڈیا ادارے کے ساتھ انٹرویو کے دوران کہا، ”میں توقع کرتا ہوں کہ عالمی وبا اب تیزی سے اپنا راستہ طے کر لے گی۔”ان کا کہنا تھا کہ گرچہ کووڈ 19 کی ایک یا دو چھوٹی لہروں کا اب بھی امکان ہے، تاہم مجموعی آبادی کی قوت مدافعت اتنی ٹھوس ہو چکی ہے کہ انتہائی نگہداشت والے یونٹوں میں اب کووڈ 19 کی وبا میں مبتلا ہونے والے مریضوں کی تعداد نمایاں طور پر کافی کم ہے۔ڈورسٹن نے جرمنی اور دیگر یورپی ممالک میں ویکسینیشن مہم کی کامیابی کو کورونا وبا کے خاتمے کی اہم وجہ قرار دیا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ مثال کے طور پر چین میں ایسا نہیں ہے، جہاں اس وقت کورونا وائرس کا انفیکشن تیزی سے پھیل رہا ہے۔ڈورسٹن نے کورونا وائرس کے خلاف حفاظتی اقدامات کا بھی دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر احتیاطی تدابیر کے طور پر کچھ بھی نہ کیا گیا ہوتا، تو جرمنی میں ڈیلٹا کی لہروں میں دس لاکھ یا اس سے بھی زیادہ اموات ہو چکی ہوتیں۔ وائرس کا ڈیلٹا ویریئنٹ سن 2021 کے وسط میں جرمنی پہنچا تھا۔جرمن وزیر انصاف مارکو بشمین نے ڈروسٹن کے بیانات کے ردعمل میں کورونا وائرس کے حوالے سے عائد تمام پابندیوں کو اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے ڈروسٹن کو وبائی امراض کے دوران سب سے زیادہ احتیاط برتنے والے سائنسدانوں میں سے ایک بتاتے ہوئے کہا کہ اب ہم مقامی وبا کی صورتحال میں ہیں۔ سیاسی اعتبار سے کورونا وائرس سے تحفظ کے لیے عائد ہمیں آخری حفاظتی اقدامات کو بھی ختم کر دینا چاہیے۔
جرمنی میں کورونا سے تحفظ کے لیے عائد کیے گئے بیشتر اقدامات پہلے ہی اٹھا لیے گئے ہیں۔ تاہم، پبلک ٹرانسپورٹ اور ہسپتالوں، دیکھ بھال کی سہولیات اور بعض طبی طریقوں میں ماسک پہننے کی ذمہ داری کا اطلاق اب بھی لازمی ہے۔ اس حوالے سے بعض لازمی ٹسٹ یا وزٹ کی پابندیاں بھی شامل ہیں۔