کیا این ڈی اے دوتہائی اکثریت سے اب بھی 6 ارکان دور؟

   

20 جولائی کو مانسون اجلاس شروع ہونے سے قبل بی جے پی کی مشن 360 پر کام میں تیزی

نئی دہلی ۔ 17 جولائی (ایجنسیز) پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے آغاز میں اب چند ہی دن باقی رہ گئے ہیں، ایسے میں بی جے پی کی توجہ تنظیمی تبدیلیوں سے ہٹ کر پارلیمانی عددی طاقت بڑھانے پر مرکوز ہو گئی ہے۔ اگر این ڈی اے دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو حکومت کے کئی اہم آئینی ترمیمی بلوں، خصوصاً خواتین ریزرویشن اور حلقہ بندی (ڈیلیمیٹیشن) سے متعلق قانون سازی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔20 جولائی سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس سے قبل بی جے پی حکومت نے مبینہ طور پر ‘مشن 360’ پر کام تیز کر دیا ہے، جس کا مقصد آئینی ترمیمی بلوں کی منظوری کیلئے درکار دو تہائی اکثریت حاصل کرنا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت خواتین کو ریزرویشن اور لوک سبھا حلقوں کی نئی حد بندی سے متعلق بل دوبارہ پیش کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اس سے قبل خصوصی پارلیمانی اجلاس میں مطلوبہ اکثریت نہ ہونے کے باعث یہ کوشش کامیاب نہیں ہو سکی تھی، تاہم اب حکومت نئی حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ادھر بی جے پی جہاں اپنی پارلیمانی حمایت بڑھانے کی کوششوں میں مصروف ہے، وہیں کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے بھی مانسون اجلاس کیلئے اپنی حکمت عملی تیار کرنا شروع کر دی ہے۔ ترنمول کانگریس، شیو سینا (ادھو ٹھاکرے) اور شرد پوار کی جماعت سے متعلق حالیہ سیاسی تبدیلیوں کے باوجود این ڈی اے آئینی ترمیم کیلئے درکار اکثریت سے اب بھی تقریباً چھ ارکان کم بتایا جا رہا ہے۔اسی تناظر میں مرکزی حکومت نے 19 جولائی کو کل جماعتی اجلاس طلب کیا ہے، جہاں حکومت اپنے قانون سازی کے ایجنڈہ پر مختلف جماعتوں کا تعاون حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔مانسون اجلاس سے قبل بی جے پی قیادت نے متعدد اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیے ہیں۔ حال ہی میں وزیراعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ پر ہونے والے اجلاس میں پارٹی کے قومی صدر نتن نبین، مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اور تنظیمی جنرل سکریٹری بی ایل سنتوش نے شرکت کی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں پارلیمنٹ کی حکمت عملی، اپوزیشن کے ممکنہ رویے اور اجلاس کے دوران پیش کیے جانے والے بلوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس کے علاوہ نتن نبین کی قیادت میں بی جے پی کی نئی قومی ٹیم کی تشکیل پر بھی مشاورت ہوئی اور مختلف ریاستوں سے تنظیمی عہدیداروں کے نام طلب کیے گئے ہیں۔حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ موجودہ سیاسی حالات حکومت کے حق میں پہلے سے زیادہ سازگار ہیں اور کئی علاقائی جماعتیں بعض معاملات پر حکومت کا ساتھ دے سکتی ہیں۔سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں بھی جاری ہیں کہ ڈی ایم کے کے 22 ارکان پارلیمنٹ بعض آئینی بلوں پر حکومت کی حمایت کر سکتے ہیں۔ اگرچہ ڈی ایم کے نے پہلے حلقہ بندی کی سخت مخالفت کی تھی، لیکن تمل ناڈو اسمبلی انتخابات کے بعد اس کی سیاسی حکمت عملی میں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔
پارٹی نے پارلیمنٹ میں کانگریس سے فاصلہ اختیار کرتے ہوئے الگ نشستوں پر بیٹھنے کا فیصلہ بھی کیا ہے، جس سے بی جے پی کو امید بندھی ہے کہ بعض معاملات پر اسے ڈی ایم کے کی حمایت حاصل ہو سکتی ہے۔’مشن 360′ کیا ہے؟فی الحال لوک سبھا کی مؤثر تعداد 540 ارکان ہے کیونکہ تین نشستیں خالی ہیں۔ آئینی ترمیم منظور کرانے کیلئے کم از کم 360 ارکان کی حمایت ضروری ہے۔ذرائع کے مطابق این ڈی اے کے پاس اس وقت تقریباً 293 ارکان کی حمایت موجود ہے۔ اگر ترنمول کانگریس سے الگ ہونے والی این سی پی آئی کے 20 ارکان اور ڈی ایم کے کے 22 ارکان حکومت کا ساتھ دیتے ہیں تو یہ تعداد تقریباً 335 تک پہنچ سکتی ہے۔اس کے علاوہ حکومت کو وقتاً فوقتاً وائی ایس آر کانگریس کے چار ارکان اور ایک آزاد رکن کی حمایت بھی حاصل رہی ہے، جس سے تعداد تقریباً 340 ہو جاتی ہے۔مہاراشٹرا میں ادھو ٹھاکرے کی شیو سینا (یو بی ٹی) سے چھ ارکان کے ایکناتھ شندے گروپ میں شامل ہونے کی اطلاعات کے بعد این ڈی اے کی طاقت 346 تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔اگر شرد پوار کی جماعت کے آٹھ ارکان بھی آئینی ترمیمی بلوں کی حمایت کریں تو این ڈی اے کی مجموعی تعداد 354 ہو جائے گی، جو دو تہائی اکثریت سے اب بھی چھ ارکان کم ہوگی۔آخری چھ ارکان کہاں سے آئیں گے؟دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کیلئے این ڈی اے کو مزید چھ ارکان کی ضرورت ہوگی۔ اسی مقصد کے تحت وزیر داخلہ امیت شاہ نے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، مہاراشٹرا کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے، وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس اور حال ہی میں شندے گروپ میں شامل ہونے والے ارکان سے متعدد ملاقاتیں کی ہیں۔سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ ان ملاقاتوں کا مقصد مانسون اجلاس سے قبل حکومت کی پارلیمانی طاقت میں اضافہ کرنا ہے۔سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے بھی خواتین ریزرویشن اور حلقہ بندی کے بلوں کی مشروط حمایت کا عندیہ دیا ہے، تاہم مبصرین کے مطابق ان کی شرائط حکومت کیلئے قابل قبول ہونا آسان نہیں ہوگا۔ادھر شیو سینا (ادھو ٹھاکرے) کے رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت نے بھی کہا ہے کہ اگر حکومت ان کے مطالبات تسلیم کرے تو ان کی جماعت تعاون پر غور کر سکتی ہے۔ شیو سینا (یو بی ٹی) کے اس وقت لوک سبھا میں تین ارکان ہیں۔ اگر ان کی حمایت بھی مل جائے تو حکومت کو اب بھی مزید تین ارکان کی ضرورت باقی رہے گی۔ سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ اگر بی جے پی ممتا بنرجی کی جماعت کے چند ارکان کو اپنی حمایت پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہو گئی تو دو تہائی اکثریت کا ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔19 جولائی کو کل جماعتی اجلاسمرکزی حکومت نے مانسون اجلاس سے قبل 19 جولائی کو کل جماعتی اجلاس طلب کیا ہے، جس میں مختلف سیاسی جماعتوں کو حکومت کے قانون سازی کے ایجنڈہ اور اجلاس کے دوران پیش کیے جانے والے اہم بلوں سے آگاہ کیا جائے گا۔پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس 20 جولائی سے شروع ہوگا، جبکہ 21 جولائی کو این ڈی اے پارلیمانی پارٹی کا اجلاس منعقد ہوگا، جس سے وزیراعظم نریندر مودی خطاب کریں گے۔اعلیٰ سطحی مشاورت، بدلتے ہوئے سیاسی حالات اور آئینی ترمیمی بلوں پر جاری سرگرمیوں کے باعث مانسون اجلاس سے قبل سیاسی ماحول کافی گرم ہو چکا ہے۔ اب تمام نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا حکومت اپنی پارلیمانی عددی طاقت کو قانون سازی میں کامیابی میں تبدیل کر پاتی ہے یا نہیں۔